اسلام آباد میں اے آر وائی ٹی وی کے دفتر پر دستی بم حملہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے دفتر پر دستی بم سے حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون فور میں واقع ٹی وی چینل کے دفتر کے محافظ کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے دفتر کے اندر دستی بم پھینکا۔

حملہ آوروں نے ’دستی بم‘ کے علاوہ عمارت کے اندر ایک پمفلٹ بھی پھینکا ہے جس میں اس حملے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ خراسان کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔

محافظ کا کہنا تھا کہ ’دونوں حملہ آور کالے کپڑوں میں ملبوس تھے اور نقاب پہنے ہوئے تھے۔ میں نے ان پر فائرنگ کی لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔‘

اے آر وائی پر اس حملے کے نتیجے میں ڈی ایس این جی کا آپریٹر زخمی ہوا ہے۔

اے آر وائی اسلام آباد کے بیورو چیف صابر شاکر کا کہنا ہے کہ انھیں اس حملے سے قبل کسی قسم کی دھمکی موصول نہیں ہوئی تھی۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ’حال ہیں میں اٹک میں اے آر وائی کے نامہ نگار کو پولیس نے احتیاط برتنے کو کہا تھا۔ تاہم اس قسم کی کوئی ہدایت اسلام آباد دفتر کو نہیں دی گئی تھی۔‘

ایس ایس پی آپریشن ساجد کیانی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو کالعدم تنظیم دولت اسلامیہ کی کارروائیوں کے بارے میں پہلے سے کوئی معلومات نہیں تھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ شدت پسند تنظیموں کی طرف سے میڈیا ہاؤسز پر ممکنہ حملوں کے بارے میں خفیہ اداروں نے وزارت داخلہ کو آگاہ کردیا تھا جس کے بعد اسلام آباد میں واقع میڈیا ہاؤسز کو سکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد پولیس نے میڈیا ہاؤسز کے باہر تعینات سکیورٹی گارڈز کو کسی بھی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کی تربیت بھی دی گئی تھی۔