مسعود اظہر: افغان جہاد کی پیداوار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جنوبی پنجاب کے علاقے بہاولپور کے ایک سرکاری سکول کے استاد کے گھر پیدا ہونے والے مسعود اظہر نے ابتدائی تعلیم کے بعد کراچی میں قائم مدرسے جامعہ بنوری ٹاؤن کا رخ کیا اور یہیں وہ شدت پسندانہ خیالات کا شکار ہوئے

جیشِ محمد کے بانی مسعود اظہر بھی اپنے بیشتر ہم عصر شدت پسندوں کی طرح افغان جہاد کی پیداوار ہیں اور اپنے ساتھیوں کی طرح ہی انھوں نے افغانستان کا محاذ ٹھنڈا اور کشمیر کا گرم ہونے پر وہاں کا رخ کیا۔

مسعود اظہر اور باقی شدت پسندوں میں فرق اتنا ہے کہ کشمیر میں پاکستانی جنگجوؤوں پر زندگی تنگ ہونے پر ان کے زیادہ تر ساتھی پاکستان کے اندر کارروائیوں میں مصروف ہو گئے اور انھوں نے اپنی تمام تر توجہ کشمیر اور بھارت پر مرکوز رکھی۔

پٹھان کوٹ پر حملے کی تحقیقات، جیش محمد کے متعدد افراد گرفتار

’بھارت کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائےگا‘

’پاکستان حملے کی شفاف تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے‘

جنوبی پنجاب کے علاقے بہاولپور کے ایک سرکاری سکول کے استاد کے گھر پیدا ہونے والے مسعود اظہر نے ابتدائی تعلیم کے بعد کراچی میں قائم مدرسے جامعہ بنوری ٹاؤن کا رخ کیا اور یہیں وہ شدت پسندانہ خیالات کا شکار ہوئے۔

مدرسے سے ڈگری لینے سے قبل وہ افغانستان میں عسکری تربیت حاصل کر چکے تھے۔ مدرسے سے فارغ ہونے کے بعد وہ کل وقتی مجاہد بن گئے اور حرکت الانصار نامی شدت پسند تنظیم کے جھنڈے تلے افغانستان میں لڑتے ہوئے زخمی بھی ہوئے۔

افغانستان سے روسی انخلا کے بعد مسعود اظہر نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کا رخ کیا جہاں وہ پاکستان سے آ کر لڑنے والے عسکریت پسندوں کی معاونت کرتے رہے۔ اس دوران سنہ 1993 میں سری نگر میں ایک چھاپے کے دوران وہ بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہتھے چڑھ گئے۔

مسعود اظہر کا شمار اس وقت چوٹی کے جنگجوؤں میں ہوتا تھا اور ان کے بعض ساتھی اس وقت کے طاقت ور شدت پسند تھے۔ ان میں حرکت الانصار کے بانی فضل الرحمٰن خلیل اور عمر سعید شیخ بھی شامل تھے۔

ان دونوں شدت پسندوں نے اپنے ساتھی مسعود اظہر کی رہائی کی کوششیں کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسعود اظہر کراچی میں قائم مدرسے جامعہ بنوری ٹاؤن میں ہی شدت پسندانہ خیالات کا شکار ہوئے

پہلے حرکت الانصار نے سنہ 1994 میں سری نگر سے یورپی سیاح کو اغوا کر کے ان کی رہائی کے بدلے مسعود اظہر کی رہائی کا مطالبہ کیا اور اس کے چند ماہ بعد عمر شیخ نے دلی سے چند غیر ملکیوں کو اغوا کر کے مسعود اظہر کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

یہ دونوں کوششیں تو ناکام ہوئیں لیکن پانچ برس بعد بلاآخر مسعود اظہر کے ساتھی انھیں سنہ 1999 میں اغوا ہونے والے بھارتی مسافر جہاز کے بدلے رہا کروانے میں کامیاب ہو گئے۔ مسافروں اور مسعود اظہر کے درمیان تبادلہ قندھار کے ہوائی اڈے پر ہوا۔

مسعود اظہر نے چند روز قندھار میں طالبان کے مہمان کے طور پر گزارے جس کے بعد وہ پاکستان آئے اور فضل الرحمٰن خلیل کے ساتھ مل کر حرکت المجاہدین کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کی۔

یہ کوشش فضل الرحمٰن خلیل سے اختلافات کے باعث ناکام ہوئیں تو مسعود اظہر نے جیش محمد کے نام سے اپنی تنظیم کا اعلان کراچی میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کر دیا۔

ابتدائی طور پر اس تنظیم کی سرگرمیوں کا مرکز کابل رہا لیکن امریکہ پر 11 ستمبر کے حملوں کے جواب میں کابل پر امریکی بمباری کے موقع پر مسعود اظہر بہاولپور منتقل ہو گئے۔

مسعود اظہر نے اپنے مدرسے کو کئی کنال تک وسعت دی اور وہیں پر اپنی تنظیم کا مرکز قائم کر دیا۔ وہاں سے انھوں نے کشمیر میں اپنی جہادی سرگرمیوں کے لیے جنگجوؤوں کو بھرتی کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

اکتوبر سنہ 2001 میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کی عمارت اور دسمبر سنہ 2001 میں نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ کی عمارت پر حملوں کی ذمہ داری جیش محمد پر عائد کی گئی۔

بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ اور برطانیہ نے بھی بہت جلد جیش کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا اور پاکستان کے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف نے بھی جنوری سنہ 2002 میں جیش کو خلاف قانون قرار دے کر پابندیاں عائد کر دیں اور مولانا مسعود اظہر کو نظربند کر دیا گیا۔

لیکن ان کی قیادت میں تنظیم خدام الاسلام کے نام سے کام کرنے لگی جب کہ جیش محمد کا ایک اور دھڑا جماعت الفرقان کے نام سے مولانا عبدالجبار کی قیادت میں متحرک ہو گیا۔

Image caption مسعود اظہر نے بہاولپور کے نواح میں اپنے مدرسے کو کئی کنال تک وسعت دی اور وہیں پر اپنی تنظیم کا مرکز قائم کیا

سنہ 2003 میں ان دونوں تنظیموں کو بھی مشرف حکومت نے خلاف قانون قرار دے دیا لیکن ان کی سرگرمیوں میں عملی رکاوٹ نہ ڈالی جا سکی۔

دسمبر سنہ 2003 میں مولانا عبدالجبار کو سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تاہم سنہ 2004 میں انھیں رہا کر دیا گیا۔

اس کے بعد مسعود اظہر منظر عام سے غائب ہوگئے اور ساتھ ہی پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بھی ’اوجھل‘ ہو گئے۔

اس کی ایک وجہ بظاہر یہی تھی کہ ایسے وقت میں جب افغانستان اور کشمیر جہاد سے واپس آنے والے جنگجو پاکستان کے اندر کارروائیاں کر کے پاکستانی اداروں کے لیے درد سر بنے ہوئے تھے، مسعود اظہر مقامی جہادی یا فرقہ وارانہ منظر نامے میں زیادہ نمایاں نہیں ہوئے۔

مسعود اظہر نے اس صورتِ حال کا خوب اٹھایا اور خاموشی سے بھارت اور کشمیر میں پرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔

بھارتی تفتیش کار اس دوران بھارت میں ہونے والی پر تشدد کارروائیوں میں جیش محمد اور مسعود اظہر کا نام لیتے رہے لیکن پاکستان نے بھارت سے ٹھوس ثبوت نہ ملنے کی بنا پر ان شکایات پر کان نہیں دھرے۔

اس بار حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے انھیں جو ابتدائی شواہد دیے گئے ہیں ان سے پٹھان کوٹ کے فوجی اڈے پر حملے میں جیش محمد کے ملوث ہونے کے اشارے ملتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس تنظیم پر پابندیاں تو کئی بار لگیں لیکن یہ پہلی بار ہے کہ جب جیش محمد کے خلاف کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں