کراچی میں 22 لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال کراچی سے پولیو کے سات کیسز سامنے آئے جبکہ رواں سال میں اب تک کوئی بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے

پاکستان کے سب بڑے شہر کراچی کے تمام چھ اضلاع میں پانچ روز سے جاری انسداد پولیو مہم جمعے کے روز اختتام پذیر ہوگئی ہے۔

دو سالوں میں پہلی بار پورے شہر میں ایک ہی مرحلے میں انسداد پولیو مہم شروع کی گئی۔

اعداد وشمار کے مطابق پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکاری خاندان یا گھروں سے غیر حاضر بچوں کی بڑی تعداد گڈاپ ٹاؤن میں دیکھنے میں آئی۔ جبکہ ایسے کیسز لانڈھی اور پھر بلدیہ سے بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

پولیو کے خاتمے کے لیے قائم حکومتی ادارے کے انچارج ڈاکٹر عثمان چاچڑ نے پورے شہر میں ایک ساتھ شروع کی گئی انسداد پولیو مہم کوایک بڑی کامیابی قرار دیا۔

ان کے مطابق ’اس سے قبل سکیورٹی کے ناکافی انتظامات کی وجہ سے انسداد پولیو مہم دو مراحل میں مکمل کی جاتی تھی جس کی وجہ سے کئی بچےگھروں میں نہ ہونے کی وجہ سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم رہ جاتے تھے۔‘

انھوں نےکہا کہ ’اس مہم کی کامیابی کا سہرا ایڈیشنل آئی جی پولیس سندھ کے سر ہے جنھوں نے مہم کے دوران سکیورٹی کا ایک جامع اور مربوط پلان ترتیب دیا۔‘

کراچی کے چھ اضلاع میں انسداد پولیو کی مہم پانچ روز تک جاری رہی جس کے دوران 22 لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین پلائی گئی اور اس میں پولیو رضاکاروں کی 6308 ٹیموں نے حصہ لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیو کے باعث اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے صحت ڈبلیو ایچ او نے پاکستان پر سفری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں

واضح رہے کہ سنہ 2012 سےتقریبا ہرسال کراچی میں پولیو ورکرز پر حملے رپورٹ ہوئے ہیں اور کئی بار مناسب سکیورٹی نہ ملنے کے سبب انسداد پولیو مہم ملتوی بھی کرنا پڑی۔

گذشتہ سال کراچی سے پولیو کے سات کیسز سامنے آئے جبکہ رواں سال میں اب تک کوئی بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔

ڈاکٹر عثمان چاچڑ کے مطابق: ’اگر مئی 2016 تک پاکستان سے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوتا توسفری پابندی میں نرمی کا امکان ہے بصورتِ دیگر یہ مشکل ہوگا اور سفری پابندیوں کا سب سے زیادہ نقصان کراچی کو ہوگا کیونکہ یہ پاکستان کا معاشی گڑھ ہے۔‘

خیال رہے کہ اب دنیا میں صرف دو ممالک پاکستان اور افغانستان باقی ہیں جہاں پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے جس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے صحت ڈبلیو ایچ او نے پاکستان پر سفری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

اسی بارے میں