ہم سا ہو تو سامنے آئے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھولے روسی تو محض ایک معمولی سڑک کے 50 کلو میٹر ٹکڑے کی چوری پر ماتم کناں ہیں

روس کے شمالی علاقے کومی میں سرکاری حکام کی ملی بھگت سے 50 کلومیٹر طویل سڑک چوری کر کے سات ہزار کنکریٹ سلیبوں کی شکل میں چور بازار میں بیچ دی گئی۔

اس کام کو دو برس اور سرکار کو 80 ہزار ڈالر کا چاقو لگا۔

جولائی 2014 میں جوہانسبرگ سے نائجل جانے والے ریلوے ٹریک کا دس کلومیٹر ٹکڑا راتوں رات چوری ہوگیا چنانچہ جنوبی افریقہ ریلوے کو ڈھائی ملین ڈالر کا نقصان پہنچا۔

جب بھی میں ایسی ٹچی ٹچی سستی وارداتی خبریں پڑھتا ہوں تو ہنسی چھوٹ جاتی ہے کہ یہ لوگ کتنے سادے اور ہمارے پروفیشنلز سے کتنے پیچھے ہیں۔ ڈھنگ سے چوری تک نہیں کرسکتے۔

بھٹو دور میں جب میاں عطا اللہ مرحوم وزیرِ ریلوے تھے تو ایک سالم انجن آنکھ کے شہتیر کی طرح ایسا غائب ہوا کہ خبر نہ ملی۔ کچھ سیاسی مفسدوں نے اس زمانے میں یہ افواہ بھی اڑائی کہ مغوی انجن کی آخری آرام گاہ پنجاب کی ایک معروف فونڈری تھی۔

گذشتہ برس مارچ میں سینیٹ کی مجلسِ قائمہ برائے جہاز رانی کو بتایا گیا کہ بلوچستان سے دو ارب روپے مالیت کا ریلوے ٹریک چوری ہوچکا ہے۔

پھر جون میں اسی سینیٹ کی مجلسِ قائمہ برائے ریلوے کے اجلاس میں سینیٹر سردار فتح محمد حسنی نے متعلقہ اداروں کو پتہ لگانے کا حکم دیا کہ کوئٹہ تا ژوب پانچ سو کلومیٹر متروک ریلوے ٹریک آج کل کہاں ہے ؟

اس سے پہلے 2011 کے اوائل میں شہداد کوٹ سے جیکب آباد جانے والے متروک ریلوے ٹریک کا 25 کلومیٹر ٹکڑا غائب ہوگیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خانیوال سے ایک مال بردار ٹرین تانبے کی تار لے کر لاہور کی بجائے جانے کیسے راستہ بھول کر کھاریاں کینٹ پہنچ گئی

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ دو ارب 70 کروڑ روپے مالیت کا یہ ٹریک لاہور کی مصری شاہ کباڑی مارکیٹ کے گوداموں میں 22 ہزار روپے فی پلیٹ کے حساب سے پہنچا دیا گیا ( ایک پلیٹ کی لمبائی 42 فٹ ہوتی ہے، جبکہ نئی ٹریک پلیٹ ایک لاکھ روپے تک کی بنتی ہے۔)

اس سکینڈل میں بھی حسبِ معمول محکمہ ریلوے اور پولیس کے چھوٹے اہلکار گرفتار ہوئے اور بڑے اہلکاروں نے دادِ مہارت بصورتِ ترقی پائی اور کیس نیب کے ہاتھ آیا۔

ستمبر 2011 میں خانیوال سے ایک مال بردار ٹرین تانبے کی تار لے کر لاہور کی مغل پورہ ریلوے ورکشاپ کی جانب روانہ ہوئی۔ پر جانے کیسے راستہ بھول کر کھاریاں کینٹ پہنچ گئی۔

وہاں اس کا بوجھ جھٹ پٹ ہلکا کردیا گیا۔ ہا ہا کار ہوئی تو فوج کے ایک حاضر سروس میجر سیمت کئی ریلوے اہلکار حراست میں آگئے۔ مقدمہ زیرِ تعمیر ہے۔

بھولے روسی تو محض ایک معمولی سڑک کے 50 کلو میٹر ٹکڑے کی چوری پر ماتم کناں ہیں۔ یہاں توگلیاں، نکاسیِ آب کی نالیاں، سیلاب سے بچاؤ کے بند، حفاظتی باڑھیں، واٹر سپلائی سکیمیں اور سکول تک تعمیر سے پہلے چوری ہوجاتے ہیں۔

اس مسلسل قومی ٹورنامنٹ میں سندھ اور بلوچستان کے مابین اکثر سخت مقابلہ رہتا ہے۔ سنہ 2014 میں سندھ کے صرف ایک ضلع جام شورو میں 20 سے زائد تعمیراتی منصوبوں کا کاغذ پر ہی افتتاح اور تکمیل ہوئی۔

بلوچستان کا شاید ہی کوئی ضلع ہو جہاں کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی سڑک ویسے ہی نہ چرائی گئی ہو جیسے دل چرایا جاتا ہے۔ ایسے ترقیاتی منصوبوں کی افادیت غالب سوا سو برس پہلے ہی بھانپ چکے تھے۔

تھا خواب میں خیال کو دل سے معاملہ

جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2011 کے اوائل میں شہداد کوٹ سے جیکب آباد جانے والے متروک ریلوے ٹریک کا 25 کلومیٹر ٹکڑا غائب ہوگیا

چنانچہ اگر کسی کو پاکستان میں انفراسٹرکچر کی تیز رفتار ترقی دیکھنی ہو تو فائلوں میں دیکھے تاکہ زیادہ بہتر دکھائی دےگا۔

کاغذ میں منصوبہ مکمل ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ماحولیات کو مزید نقصان نہیں پہنچتا اور پورا پروجیکٹ صفائی کے ساتھ مقررہ مدت میں یا اس سے بھی پہلے مکمل ہوجاتا ہے۔

جبکہ وہ منصوبے جنھیں زمین پر مکمل ہونے کے لیے مجبور کیا جائے ان کا تکمیلی ہدف اور لاگت تب تک بڑھتی جاتی ہے جب تک منصوبے سے جڑی جیبیں پھٹ نہ جائیں۔

مثلاً نندی پور پاور پروجیکٹ، مثلاً 2008 میں شروع ہونے والے نیو اسلام آباد ایرپورٹ کو 2013 تک لگ بھگ 37 ارب روپے لاگت سے آپریشنل ہو جانا چاہئے تھا۔

آج یہ منصوبہ 90 ارب کا ہندسہ چھوا چاہتا ہے اور اگلا وعدہِ تکمیل اکتوبر 2016 کا ہے۔

اس محفل میں ہے کوئی ہم سا ، ہم سا ہو تو سامنے آئے۔

اسی بارے میں