راج کپور کا مکان مسمار کرنے پر پانچ افراد گرفتار

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے برصغیر کے فلم انڈسٹری کے عظیم فنکار راج کپور کے پرانے مکان کو غیر قانونی طورپر مسمار کرنے کے جرم میں پانچ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

خان رازق پولیس سٹیشن قصہ خوانی کے انچارج محمد نور نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کو پولیس نے چھاپہ مار کر ڈھکی منور شاہ میں واقع راج کپور کے مکان سے پانچ افراد کو حراست میں لیا جو مکان کو مسمار کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کاروائی ڈائریکٹر عجائب گھر عبد الصمد کی طرف سے ایف آئی آر کے اندارج کے بعد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شکایت میں تین افراد اسرار، علی قادر اور حسن قادر کو نامزد کیا گیا ہے جن کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس افسر کے مطابق ایف آئی آر میں ڈائریکٹر عجائب گھر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ راج کپور کے مکان کو حکومت کی طرف سے ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا لہذا اس کی مسماری غیر قانونی تصور ہوگی۔

محمد نور نے کہا کہ چھاپے کے بعد راج کپور کے مکان کو تالہ لگا کر بند کردیا گیا ہے۔ حراست میں لیے جانے والے افراد میں چار مزدور اور ایک چوکیدار شامل ہیں۔

پولیس اہلکار نے مزید بتایا کہ ملزمان نے مکان کو اندر سے گرانا شروع کردیا گیا تھا تاہم باہر سے گھر کے تمام حصے محفوظ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ mohan churiwala
Image caption تحریک انصاف کی حکومت نے دلیپ کمار اور راج کپور کے مکانات کو عجائب گھروں میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا

قصہ خوانی کے علاقے ڈھکی منور شاہ میں واقع راج کپور کے پرانے حویلی نما مکان کئی کمروں پر مشتمل ہے۔

خیال رہے کہ تقربنا ڈیڑھ سال قبل تحریک انصاف کی حکومت نے پشاور سے تعلق رکھنے والے برصغیر پاک و ہند کے سنیما کے دو عظیم فنکاروں دلیپ کمار اور راج کپور کے مکانات کو خریدنے کا اعلان کرتے ہوئے ان میں عجائب گھر بنانے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کی طرف سے بھی ان دو نامور فنکاروں کے مکانات کو ثقافتی ورثہ قرار دینے کے متعدد بار اعلانات کیے گئے تھے جبکہ ایک مرتبہ مرکزی حکومت کی طرف سے ایسا ہی ایک اعلان سامنے آیا تھا۔ تاہم اب تک ان اعلانات کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا ہے اور نہ اس ضمن میں عملی کام دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دلیپ کمار کے مکان پر بھی بعض افراد کی طرف سے دعوے داری ظاہر کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں دعوے کرنے والے افراد کی طرف سے عدالت میں ایک درخواست بھی بھی دائر کی گئی تھی تاہم یہ معاملہ ابھی تک حل نہیں کیا جاسکا ہے۔

اسی بارے میں