اے پی ایس حملے پر ویڈیو گیم، تنقید کے بعد ہٹا دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے پر بنائی گئی ویڈیو گیم کو سخت تنقید کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

صوبہ پنجاب میں واقع سرکاری ڈیجیٹل ایجنسی نے ’پاکستان آرمی ریٹریبیوشن‘ نامی ویڈیو گیم بنائی تھی۔

اس گیم میں کھیلنے والے فوجیوں کا کردار ادا کرتے ہیں جو سکول پر حملہ کرنے والوں کو گولیاں مارتے ہیں۔

گیم بنانے والی ایجنسی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ آرمی پبلک سکول پر حملے پر ویڈیو گیم بنانا مناسب نہیں تھا۔

16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان نے حملہ کیا تھا جس میں 129 بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ ویڈیو گیم گوگل پلے نے کئی ہفتوں قبل اے پی ایس پر حملے کی ایک سالہ برسی کے موقعے پر لانچ کی تھی۔

تاہم اس گیم پر اس وقت تنقید شروع ہوئی جب انگریزی اخبار ڈان نے اس کے بارے میں لکھا: ’یہ گیم ہر طرح سے ناکام ہے۔‘

سوشل میڈیا پر اس ویڈیو گیم پر سخت تنقید کی گئی۔ لوگوں نے اس گیم کو ناپسندیدہ اور بےحس قرار دیا۔

اس گیم کو پنجاب آئی ٹی بورڈ کے کہنے پر بنایا گیا تھا۔ پنجاب آئی ٹی بورڈ نے ایک بیان میں کہا کہ اس گیم کو ختم کر دیا گیا ہے۔

ایجنسی کے سربراہ عمر سیف نے ٹویٹ میں کہا: ’شکریہ اس غلطی کی نشاندہی کرنے کا۔‘

اسی بارے میں