’ہاتھ غلطی سے اٹھا تو میں نے کاٹ ڈالا‘

Image caption ’میری جان نے یہ گوارا نہیں کیا کہ یہ ہاتھ میرے تن کے ساتھ رہے‘

’میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں آپ کو بتا سکوں کہ اس بچے نے اپنا ہاتھ کاٹ کر عشق رسول میں کتنا بڑا کام کیا ہے۔ یہ ایمان کی پختگی ہی نہیں بلکہ انتہا ہے۔ میں یہاں اس کی حوصلہ افزائی کرنے آیا ہوں۔‘

یہ کہنا تھا فاروق احمد کا جو اوکاڑہ ضلعے کے ایک گاؤں میں 15 سالہ قیصر (فرضی نام) سے ملنے آئے جس نے توہین رسالت کا الزام لگنے پر اپنا دائیں ہاتھ چارا کاٹنے والی مشین میں ڈال کر ایک ہی جھٹکے میں کاٹ ڈالا۔

تشدد کو ہوا دینے کے الزام میں امام مسجد گرفتار

فاروق احمد کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ میں نے پوچھا کیا آپ بچے کو اس تکلیف میں دیکھ کر خوش کیوں ہیں تو جواب دیا کہ ’میں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ میں کتنا خوش ہوں۔ اس بچے نے ثابت کیا ہے کہ اگر غلطی سے بھی رسول پاک کی شان میں گستاخی ہو جائے تو پھر بھی سزا ملنی چاہیے۔ آج کے دور میں رسول سے ایسی محبت کون کرتا ہے۔ جذبات میں اتنا اگے جانا ہمارے لیے قابل فخر ہے۔ میں تو یوں کہہ لیجیے اس کی زیارت کرنے آیا ہوں۔‘

11 جنوری کو قصبے کی ایک مسجد میں محفل میلاد جاری تھی۔ قیصر نے اس واقعے کو یوں بیان کیا: ’امام صاحب کا بیان جاری تھا۔ انھوں نے پہلے پوچھا کون ہے جو رسول پاک کی تعلیمات کو مانتا، ہاتھ کھڑا کرے؟ سب نے ہاتھ اٹھایا۔ دوسری ہی سانس میں انہوں نے پوچھا کون ہے جو رسول پاک کی تعلیمات کو نہیں مانتا، کوئی ہے تو ہاتھ کھڑا کرے؟ اور میرا ہاتھ غلطی سے اٹھ گیا۔‘

اس کا کہنا تھا: ’فوراً ہی میرے دل میں آیا کہ میرا ہاتھ رسول پاک کی مخالفت میں اٹھا ہے، پھر میری جان نے یہ گوارا نہیں کیا کہ یہ ہاتھ میرے تن کے ساتھ رہے۔ میں واپس گھر آیا، میں ٹوکے کے پاس گیا مگر اندھیرا تھا۔ میرے چچا گھر میں سو رہے تھے۔ میں نے ان کا موبائل لیا اس کی لائٹ میں دائیں ہاتھ کو ٹوکے کے بلیڈ میں رکھ کر بائیں ہاتھ سے ٹوکا چلایا اور میرا ہاتھ زمین پر جا گرا۔‘

Image caption یہ واقعہ 11 جنوری کو پیش آیا

اس کے بعد قیصر نے ہاتھ اٹھا کر ایک ٹرے میں رکھا۔ خون سے لت پت وہ گھر سے دس منٹ کے فیصلے پر واقع مسجد دوبارہ گئے اور امام کو ٹرے میں پڑا ہاتھ پیش کر دیا۔ قیصر کے مطابق اس نے توہین رسالت کا ازالہ کر لیا ہے۔

جب میں قیصر سے ملی تو وہ بہت کمزور لگ رہے تھے، ان کی آواز دھیمی اور چہرہ جذبات سے عاری تھا۔

نویں جماعت کے طالب علم قیصر دبلا پتلا سانولا سے ہیں۔ وہ چار پائی پر چادر کاندھوں پر ڈالے نظریں جھکائے بیٹھا تھا۔ گاؤں کے لوگ بار بار اسے کہتے سیدھے ہو کر بیٹھو اور چادر سے بازو باہر نکال کر دکھاو کہ تم نے عشق رسول میں کیا کیا ہے۔

ہجوم کم ہوا تو میں نے اس سے پوچھا: ’زیارہ درد تو نہیں ہو رہا؟ قیصر نے کہا:’جو ہاتھ رسول پاک کی گستاخی میں اٹھا جب میں نے اسے کاٹ دیا تو تھی کیسی تکلیف اور کیسا درد؟‘

قیصر کے والد سے میری ملاقات مقامی ڈسپنسری میں ہوئی جہاں وہ قیصر کے زخموں کی پٹی کروانے آئے۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ’جب مجھے پتہ چلا کہ قیصر نے ہاٹھ کاٹ ڈالا ہے تو ظاہر ہے میری اولاد ہے، مجھے دکھ ہوا۔ لیکن جب اس نے بتایا کہ ایسا عشقِ رسول میں کیا ہے تو مجھے فخر ہوا۔‘

قیصر کا گھرانہ بہت غریب ہے۔ والد نے کہا کہ ’میں بڑی مشکل سے تین وقت کی روٹی کماتا ہوں، میرے پاس اس کے علاج کے پیسے بھی نہیں، میں چاہتا ہوں میرے بیٹے کو نیا ہاتھ مل جائے۔‘

اسی بارے میں