’مصالحت کے لیے کسی نے نہیں کہا، خود ہی یہ قدم اٹھایا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption سعودی عرب کے بعد ایران کے دورے میں بھی پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران تنازعے کا خاتمہ مقدس مشن ہے اور پاکستان اپنا فرض نبھا رہا ہے۔

خیال رہے کہ منگل کو پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کے تہران پہنچی تھی۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کے لیے ان سے کسی نہیں کہا بلکہ انھوں نے یہ قدم خود اٹھایا ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم ہو جائےگی۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ اپنے دورے سے بہت زیادہ مطمئن ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM house
Image caption وزیراعظم نواز شریف یہ دورے ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ’مصالحتی کوششوں‘ کے سلسلے میں کر رہے ہیں

اس سے قبل وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور ایران کے صدر حسن روحانی اپنے سول وعسکری قیادت پر مبنی وفود کے ہمراہ ملاقات کی۔

وزیراعظم نواز شریف یہ دورے ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ’مصالحتی کوششوں‘ کے سلسلے میں کر رہے ہیں۔

’دہشت گردی، انتہا پسندی کے خلاف مل کر کام کریں گے‘

’پاکستان اور سرخرو ہوگا‘

’عرب و عجم کشیدگی میں وقت آنے پر ثالثی کریں گے‘

پاکستان کے وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ دو اس مسئلے پر فوکل پرسن مقرر کریں گے۔ اور انھوں نے ایران کو بھیمرکزی نمائیندہ مقرر کرنے کو کہا اور بتایا کہ سعودی عرب کوبھی یہی تجویز دی جائےگی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ایران کو دہشت گردی کے خطرے کا اداراک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ معاملات طے کرنے کے لیے مخلص کوششیں کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں انھوں نے دونوں ملکوں کے خدشات ایک دوسرے تک پہنچائے ہیں۔

وزیراعظم دورہ مکمل کر کے ڈیوس روانہ ہو گئے ہیں۔

ادھر فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ، آئی ایس پی آر نے منگل کو جاری بیان میں بتایا کہ بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ایران کے وزیرِ دفاع سے ملاقات کی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ایران کے وزیرِ دفاع سے ملاقات کے دوران جنرل راحیل شریف نے سکیورٹی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

آرمی چیف نے کہا کہ ایران پاکستان کا ایک اہم مسلمان ہمسایہ ملک ہے اور پاکستانی عوام کو ایرانی بھائیوں سے بہت محبت ہے۔

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ دہشت گردی بین الاقوامی خطرہ ہے جس میں خطے کو غیر مستحکم کرنے کی قوت موجود ہے اور نمٹنے کے لیے مشترکہ رد عمل کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر ایرانی وزیرِ دفاع نے خطے کو مستحکم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر جنرل راحیل کا شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نواز شریف اور ایران کے اول نائب صدر اسحاق جہانگیری کے درمیان ملاقات کی۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران آمد کے بعد پاکستانی وزیرِ اعظم نے ایرانی وزیرِ دفاع حسین دہقان سے بھی ملاقات کی ہے۔

اس ملاقات میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور وہ ایران اور سعودی عرب کی کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM HOUSE
Image caption نواز شریف نے اعلیٰ سعودی حکام کے علاوہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان سے بھی ملاقات کی تھی

اس موقع پر ایرانی وزیر نے کہا کہ پاکستان انتہائی نازک وقت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اس کی یہ کوششیں عالمِ اسلام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔

خیال رہے کہ پاکستان پہلے ہی یہ کہہ چکا ہے کہ ایران اور سعودی عرب دونوں کو چاہیے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو اس مشکل وقت میں امتِ مسلمہ کے اتحاد کی خاطر پرامن طریقے سے حل کریں۔

پیر کو اس سلسلے میں سعودی عرب کے دورے کے دوران ریاض میں وزیر اعظم نواز شریف اور سعودی حکام کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔

اس ملاقات کے بعد پاکستانی دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے ’دہشت گردی اور انتہا پسندی‘ کے مشترکہ دشمن کے خلاف مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

تاہم اس بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ اس تعاون یا ’مل کر کام کرنے‘ کی نوعیت کیا ہو گی اور کیا اس میں دوسرے اسلامی ممالک میں جاری کارروائیوں میں اشتراک بھی شامل ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں