’چارسدہ جا کر دیکھوں گا غلطیاں کہاں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملے کے بعد ایک ٹیچر کو یونیورسٹی سے باہر لے جایا جا رہا ہے

پاکستان میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ امریکہ اور بھارت کی جانب سے چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی مذمت کی گئی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں بتایا کہ وہ صورت حال کا جائزہ لیے خود چارسدہ جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک غیر ملکی دورے پر سکاٹ لینڈ گئے ہوئے ہیں تاہم انھیں فوری طور پر واپس بلا لیا گیا ہے۔

باچا خان یونیورسٹی پر حملہ

ایک اور اے پی ایس تو نہیں؟

یونیورسٹی پر حملے کی تصویری جھلکیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر فضائی نگرانی کر رہے ہیں

عمران خان نے کہا کہ وہ دیکھیں گے ہماری کیا غلطیاں ہیں انھیں کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

قومی وطن پارٹی کے رہنما آفتاب شیرپاؤ نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’طلبہ سافٹ ٹارگٹ ہیں، ان پر حملے سے زیادہ دہشت پھیلتی ہے، اور دہشت گرد یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آپریشن ضربِ عضب کے بعد بھی ان میں اب بھی صلاحیت ہے کہ وہ دہشت پھیلا سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قومی وطن پارٹی کے رہنما آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا کہ طلبہ ’سافٹ ٹارگٹ‘ ہیں، اسی لیے انھیں نشانہ بنایا گیا ہے

وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس کے نوجوان اور سکیورٹی اہلکار بروقت کارروائی نہ کرتے تو نقصان شاید بہت زیادہ بھی ہو سکتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے مجھے، بلیغ الرحمٰن اور عبدالقادر بلوچ کو فوراً چارسدہ روانہ ہونے کا حکم دیا ہے کہا ہے کہ حملے کی تمام صورتِ حال ایوان کے سامنے پیش کریں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفند یار ولی خان نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے بات کرتے ہوئے باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے تناظر میں اپنی جماعت کی جانب سے دس دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر اب بھی ہم اگر سوئے رہے تو بہت دیر ہو جائے گی اور اس سے بھی بڑے بڑے حملوں کا خدشہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر پر حملے کی مذمت کا بیان جاری کیا

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی مذمت کی ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’میں پاکستان میں باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ ہلاک شدگان کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت۔ زخمی ہونے والوں کی لیے دعائیں۔‘

امریکہ نے بھی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی مذمت کی ہے۔ پاکستان میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا کہ ’امریکہ چارسدہ میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہے، ہماری ہمدردیاں حملے کا نشانہ بننے والوں اور ان کی خاندانوں کے ساتھ ہیں۔‘

اسی بارے میں