باچا خان یونیورسٹی پر حملہ ’کافی معلومات مل چکی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حکام نے حملے کے نتیجے میں 18طالب علموں اور دو اساتذہ کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی گئی ہے

پاکستان کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور حملہ آوروں کے حوالے سے کافی معلومات ملی ہیں تاہم اس کے بارے میں بعد میں آگاہ کیا جائےگا۔

یونیورسٹی پر بدھ کی صبح شروع ہونے والے حملے کے نتیجے میں 18طالب علموں اور دو اساتذہ کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔

یونیورسٹی پر حملہ قومی سوگ کا اعلان

خوف سے چھلانگ لگا دی

دہشت گردوں کی ٹوٹی کمر کا ایکسرے کہاں ہے؟

فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجودہ نے بدھ کی شب پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں حملے کے بعد آپریشن کےدوران بھی دہشت گرد ٹیلی فون کے ذریعے آپس میں رابطے میں تھے اور ان کی ٹیلی فون کالز کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ان کی آوازوں کو سنا گیا اور ان کا تجزیہ کیا گیا، ایک انٹیلیجنس پکچر بنائی گئی۔ زیادہ تر ڈیٹا اکھٹا کیا جا چکا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کے فنگر پرنٹس اور فورنزک نادرا حکام کو دے دیےگئے ہیں۔

حکام کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے فوری بعد یونیورسٹی میں موجود 52 افراد پر مشتمل سکیورٹی سٹاف نے حملے کا جواب دیا اور اس کے بعد علاقے میں موجود پولیس نے کارروائی کی۔

عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ فوج اس علاقے میں موجود نہیں تھی اور ’جب فوج وہاں پہنچی تو چاروں دہشت گرد زندہ تھے۔ انھیں ہاسٹل کے اندر محصور کرنے کے بعد سیڑھیوں اور چھت پر انھیں مارا گیا۔ ہم جب وہاں پہنچے تو ان کی لاشیں وہاں موجود تھیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آج یونیورسٹی میں ایک مشاعرے کا اہمتام بھی کیا گیا تھا اور اس موقع پر طالب عملوں کے علاوہ مہمانوں کی بھی خاصی تعداد موجود تھی

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد اسلحے سے لیس تھے۔ اس کے بعد آرمی چیف وہاں گئے بیماروں کی تیماداری کی۔

انھوں نے بتایا کہ آرمی چیف کی سربراہی میں پشاور کور کمانڈر ہیڈکواٹر میں بریفنگ ہوئی آپریشن اور حملے کا جائزہ لیا گیا اور کارروائی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

’45 منٹ کے اندر تمام فورسز متحرک تھیں اور انھیں محدود کیا گیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو نقصان اس سے بھی بہت زیادہ ہو سکتا تھا۔‘

یہ حملہ آور کون تھے، کہاں سے آئے، کس نے انھیں تیار کیا، کس نے ان کی مدد کی اور کس نےانھیں بھیجا، کس نے حملہ کروایا اس تمام کے بارے میں کافی معلومات ہمارے پاس اکھٹی ہوچکی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس پر ابھی مزید کام ہورہا ہے کہ حساس معلومات ہیں۔ آگے چل کر ان کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

میڈیا اور عوام کے نام اپنے پیغام میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں آپریشن ضربِ عضب کی کامیابیاں آپ کے سامنے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ’دہشت گردوں کی زیادہ تر کمین گاہیں ختم کی جاچکی ہیں، خفیہ معلومات پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے پورے ملک میں ان کے سہولت کاروں کو پکڑا جا چکا ہے اور مزید پکڑا جا رہا ہے۔‘

دہشت گرد کون تھے اور کیا پڑوسی ممالک میں ہونے والی ہلچل سے اس کا کوئی تعلق ہے؟اس سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے حوالے سے کچھ معلومات ہیں جن کے بارے میں ابھی آگاہ کیا جانا ابھی قبل ازوقت ہوگا۔

تاہم باقی ممالک میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے حملے سے تعلق کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’میں ذمہ داری کے ساتھ آپ کے ساتھ کچھ شیئر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں، اگچہ اس پر کافی بریک تھرو ہوچکا ہے جو میں آنے والے دنوں میں آپ کو بتاؤں گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حملے کے بعد آرمی چیف بھی چارسدہ پہنچ گئے

افغانستان میں دہشت گردوں کے رابطوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’دو موبائل فون ان کے پاس تھے۔ان کا رابطہ یقیناً تھا۔ یقیناً وہ افغان سم تھی۔ ایک دہشت گرد کے مرنے کے بعد بھی ان کے سیل پر کال آرہی تھی۔‘

تاہم انھوں نے موبائل کمپنی کا نام بتانے سے انکار کیا۔

خیال رہے کہ باچا خان یونیورسٹی میں حملہ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے ایک سال اور ایک ماہ بعد ہوا ہے۔

اسی بارے میں