صلاح الدین کی حکومتِ پاکستان پر تنقید

سید صلاح الدین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سید صلاح الدین نے ایک مرتبہ پھر پٹھانکوٹ حملے کی ذمہ داری قبول کی

عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے پٹھانکوٹ حملے کے الزام میں جیش محمد کے سربراہ سمیت دیگر افراد کو تحویل میں لیے جانے پر حکومت پاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آزادی کےلیے اپنی جانوں پر کھیلنے والوں پر چھاپے اور ان کے دفاتر سیل کرنا افسوسناک عمل ہے۔ انھوں نےکہا کہ ہمیں منافقت اور ابہام کا یہ رویہ قابل قبول نہیں۔

سید صلاح الدین نے پٹھانکوٹ کے حملہ کی ایک مرتبہ پھر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ پٹھانکوٹ کا حملہ کشمیری عسکریت پسندوں کے نیشنل ہائے وے سکواڈ نےکیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس حملے میں کسی عام شہری کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ’جس طرح دو متحارب فوجیں ایک دوسرے خلاف لڑتی ہیں بالکل اسی طرح ہم نے فوجی ٹارگیٹڈ آپریشن کیا ہے جس ہر ہمیں فخر ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کے تحت کشمیریوں کو اپنی آزادی کے لیے لڑنے کا پورا حق حاصل ہے۔ 1947 سے لیکر 1989 تک ہم نے پر امن سیاسی جدوجہد کی لیکن بھارت سیاسی بات نہیں سمجھتا اسی لیے ہم نے بندوق کی زبان میں بھارت کو سمجھانا شروع کیا ہے۔

متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پٹھانکوٹ حملے کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف سے لیکر نیچے تک تمام سیاسی قیادت نے عسکریت پسندوں کو دہشت گرد اور متحدہ جہاد کونسل کو سیکورٹی رسک قرار دیا۔ ’نوازشریف حکومت کو اگر تجارت کرنے کے لیے بھارت سے دوستی کرنی ہے تو وہ کشمیریوں کی وکالت سے دستبردار ہو جائے۔‘

حکومت پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کی مخالفت کرتے ہوئے سید صلاح الدین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو ان کے سیاسی و معاشی حقوق ملنا ضروری ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صوبہ بنا دیا جائے۔

سید صلاح الدین نے چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئٹہ سے لیکر چارسدہ تک اس طرح کے حملوں میں بھارتی خفیہ ادارے ملوث ہیں۔‘

اسی بارے میں