’حملے کے ذمہ داران افغانستان میں، صدر غنی سے مدد کا مطالبہ‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کر کے چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے ذمہ داران کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی میں تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کی صبح ہونے والے اس حملے میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر اور طلبا سمیت 21 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ چار حملہ آور بھی فوج کی جوابی کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔

دعائیہ تقاریب کی تصاویر

’اسے چھوڑیں میرا بیان نشر کریں‘

باچا خان یونیورسٹی پر حملہ ’کافی معلومات مل چکی ہیں‘

ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ تحقیقات اور ملنے والے شواہد سے پتہ چلا ہے کہ بدھ کو یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے شدت پسند افغانستان میں موجود کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ایک کارندے سے رابطے میں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حملہ آوروں کو افغانستان سے موبائل فون کے ذریعے بھی ہدایات دی جا رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر شہروں میں چارسدہ کے ہلاک شدگان کی غائبانہ نماز جنازہ اور دعائیہ تقاریب منعقد کی گئی ہیں

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اس سلسلے میں جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ اور افغانستان میں ریزولیوٹ سپورٹ مشن کے کمانڈر جنرل جان کیمبل سے فون کے ذریعے رابطہ کیا اور ان سے اس واقعے کی تفصیلات اور تحقیقات کا تبادلہ کیا۔

ترجمان نے کہا کہ برّی فوج کے سربراہ نے افغان رہنماؤں اور امریکی جنرل سے چارسدہ یونیورسٹی پر حملے کے ذمہ داران کی نشاندہی کرنے، ان کے خلاف کارروائی میں مدد دینے اور انھیں قانون کے کٹہرے میں لانے میں مدد دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان نے بدھ کی شب ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ چارسدہ حملے میں ملوث گروہ کی شناخت ہوگئی ہے مگر ابھی تحقیقات مکمل ہونے تک ان تفصیلات کو منظر عام پر نہیں لایا جاسکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption باچا خان یونیورسٹی پر بدھ کی صبح مسلح شدت پسندوں کے حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے

ادھر صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیس نے باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے تناظر میں کارروائی کرتے ہوئے صوبے کے مختلف علاقوں سے 60 سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

اس واقعے پر جمعرات کو ملک بھر میں سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ اس حملے کی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ابتدائی تحقیقات کے بعد باچا خان یونیورسٹی کے نواحی علاقو ں میں آپریشن کیا جس کے دوران 20 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔

اس کے علاوہ سوات کے علاقے قمبر سے ایک اور کوہاٹ سے 43 افراد کو پکڑا گیا ہے جن کی قبضے سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔

چارسدہ کے تھانہ سرڈھیری کے ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یونیورسٹی پر حملے کی ایف آئی آر ایس ایچ او تھانہ سرڈھیری کی مدعیت میں محکمۂ انسداد دہشت گردی مردان میں نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف درج کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے میں ہلاک والے طلبا اور عملے کے ارکان کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقوں میں ادا کی گئیں

ایف آئی آر میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، پولیس پر حملے، املاک کو نقصان پہنچانے اور اسلحہ رکھنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

دوسری جانب وزارت داخلہ کے مطابق نادرا نے چارسدہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کے فنگر پرنٹس کے ذریعے شناخت پر رپورٹ مکمل کر کے وزیرِداخلہ کو پیش کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چار میں سے دو دہشت گردوں کی عمریں 18 سال سے کم ہیں جبکہ وزیرِداخلہ نے انٹیلی جنس اداروں اور سکیوررٹی اداروں سے مذکورہ معلومات شیئر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسی بارے میں