پاکستان شدت پسندوں کو کیوں نہیں روک سکا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حملے میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر اور طلبہ سمیت 21 افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں بدھ کو ایک اور تعلیمی ادارے پر المناک حملہ کیا گیا جس میں دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے سے کم جانی نقصان ہوا لیکن 21 معصوم افراد مارے گئے۔

جس علاقے میں حملہ کیا گیا اس کی سرحدیں قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے ملتی ہیں جہاں مقامی شدت پسندوں کی ایک مضبوط فورس موجود اور سرگرمِ عمل ہے۔

یونیورسٹی پر حملے میں 20 ہلاکتیں، قومی سوگ کا اعلان

دہشت گردوں کی ٹوٹی کمر کا ایکسرے کہاں ہے؟

باچا خان یونیورسٹی پر حملہ: کب کیا ہوا؟

اس ایجنسی میں فوجی کارروائیوں میں آنے والی تیزی اور کمی کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کی تعداد بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے۔

اگرچہ ان کے زیر کنٹرول علاقے میں قابل ذکر حد تک کمی آئی ہے لیکن شدت پسندوں کو اب بھی یہاں محفوظ پناہ گاہوں تک رسائی حاصل ہے جہاں وہ اپنی کاررروائیوں پر جانے سے پہلے خوراک حاصل کر سکتے ہیں اور آرام کر سکتے ہیں۔

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کی تحقیقات کے دوران حکام نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا تھا جو صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور اس کے نواح میں محفوظ پناہ گاہیں چلاتا تھا۔ ان پناہ گاہوں میں حملہ آوروں کی میزبانی کی جاتی تھی، اور انھیں خوراک اور ٹرانسپورٹ مہیا کی جاتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اسی طرح حکام کے خیال میں شدت پسند باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرنے سے پہلے علاقے میں اسی طرح کی محفوظ پناہ گاہ سے نکلے، اور شدید دھند کی آڑ میں یونیورسٹی کی عقبی دیوار پھلانگ کر حملہ کر دیا۔

ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں طالب علموں کے پریشان حال عزیز یونیورسٹی کے مرکزی دروازے کے قریب جمع ہو کر اپنے بچوں کی خیریت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوششیں کرتے رہے۔

یونیورسٹی سے باہر نکلنے والے طالب علموں نے فائرنگ، دھماکوں اور بھگدڑ کے بارے میں بتایا۔

یونیورسٹی کے تین ہوسٹلوں میں مقیم متعدد افراد کے مطابق انھوں نے اپنے کمرے اندر سے بند کر لیے، دوسرے لڑکے باتھ رومز اور کلاس رومز میں چھپ گئے۔

ان میں سے زیادہ تر یونیورسٹی کے سکیورٹی گارڈز کی مدد سے کیمپس سے باحفاظت باہر نکلنے میں کامیب ہو گئے۔ دھند کی وجہ سے انھیں فائدہ پہنچا اور حملہ آوروں پر برتری حاصل ہو گئی کیونکہ حملہ آوروں کے برعکس انھیں یورنیورسٹی کے احاطے کے بارے میں اچھی طرح سے معلومات حاصل تھیں۔

مقامی پولیس بھی حملے کے فوراً بعد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور حملہ آوروں کو احاطے کے چند بلاکوں تک محدود کر دیا اور اس کے بعد فوج بھی اس کی مدد کے لیے آ گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پشاور میں سکول پر حملے کی پہلی برسی کے تقریباً ایک ماہ بعد ایک اور تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا گیا

تاہم اس سے ملک میں خطرے کی گھنٹی کو پھیلنے سے روکا نہیں جا سکا۔ مایوسی کا شکار افراد نے فوج کے ان دعوؤں پر سوالات اٹھانا شروع کر دیے کہ شدت پسندوں کے ڈھانچے ختم کر دیے گئے ہیں۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے سینیئر صحافی حامد میر نے اپنے ٹاک شو میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا نام لیے بغیر ان کے حالیہ بیان کا ذکر کیا کہ انھیں ان حملوں کی وضاحت کرنی چاہیے جنھوں نے کہا تھا کہ 2016 شدت پسندی کے اختتام کا سال ہو گا۔

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کے واقعات میں حالیہ اضافے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگرچہ طالبان کے چند گروہ منتشر ہو گئے لیکن ان کی اب بھی پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پناہ گاہیں موجود ہیں اور ان کے پاس وسائل کے تبادلے کی اہلیت موجود ہے۔ ان کو مالی وسائل اور ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہے۔

پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں بعض بھارت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنا حساب برابر کر رہا ہے جبکہ دیگر لوگ افغان حکومت کے چند عناصر پر الزام لگاتے ہیں۔ کابل اور دہلی ماضی میں ایسے الزامات کی ہمیشہ تردید کرتے آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان کے فوجی حکام کے مطابق حملہ آوروں کے حوالے سے کافی معلومات ملی ہیں

لیکن شمال مغربی خطے میں مقیم پشتون قوم پرستوں، سندھ اور بلوچستان کے متعدد سیاسی گروپوں کے خیال میں اس مسئلے کی اصل وجہ پاکستان کے شدت پسندوں کے خلاف اپنی کارروائیوں میں ان گروہوں کے انتخاب یا ان میں تفریق کرنے کی پالیسی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی سابق حکمران جماعت قوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر سیاست دان میاں افتخار حسین نے ایک ٹی وی پر اپنے بیان میں کہا کہ ’آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے قومی ایکشن پلان پر مکمل طور پر عمل درآمد میں ناکامی کی وجہ سے شدت پسندوں کے حملے جاری ہیں۔‘

20 نکاتی قومی ایکشن پلان ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت نے متفتہ طور پر ترتیب دیا تھا اور اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسلح شدت پسند گروہ کو ملک میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور اس بات کو بھی یقینی بنانے کا عہد کیا گیا تھا کہ حکومت کسی کالعدم تنظیم کو نام تبدیل کر کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے ہرگز نہیں دے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption اس واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں

تاہم اب بھی لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے گروپوں کی مختلف ناموں سے ملک میں موجودگی اور سرگرمیوں کے بارے میں سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خبریں متواتر سامنے آتی ہیں کہ افغان طالبان کی قیادت صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاوہ کراچی اور پشاور کو تسلسل سے اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

یہ گروپ اپنے وسائل پاکستانی طالبان کو مہیا کرتے ہیں جنھیں پاکستان ختم کرنا چاہتا ہے لیکن اب یہ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئے ہیں جن کی مبینہ طور پر پاکستان حمایت کرتا ہے، یا وہ افغانستان کے شمالی سرحدوں کے دشوارگزار علاقوں میں پھیل گئے ہیں جہاں سے انھیں وادیِ پشاور تک رسائی ضرور حاصل ہے جہاں وہ اپنی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

کئی ماہرین کے خیال میں اس مسئلے کا حل علاقائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بلاتفریق افغانستان اور بھارت میں سرگرم شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے اور اس کے بدلے میں یہ ممالک پاکستان مخالف گروہوں کو مالی وسائل روکنے میں مدد دیں اور ان کو پناہ گاہیں تلاش نہ کرنے دیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے ایک رکن نے کانفرنس میں بتایا کہ اب کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی اپنانا ہو گی:’اگر نہیں تو پھر امریکی صدر اوباما کے سٹیٹ آف دی یونین سے خطاب کے مطابق پاکستان کئی دہائیوں تک عدم استحکام کا شکار رہے گا۔‘

اسی بارے میں