بلوچستان: پرائمری سکولوں میں مخلوط تعلیم کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پرائمری سکولوں میں مخلوط تعلیم کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جمعہ کی شب جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق صوے بھر کے پرائمری سکولوں میں مخلوط تعلیم کی اجازت دے دی گئی ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تمام پرائمری سکولوں میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ داخلہ لے سکیں گے۔

اعلامیہ میں اگرچہ اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے تاہم اس کی ایک وجہ خواتین میں شرح تعلیم میں اضافہ کرنا ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں اس وقت اسکول جانے کے عمر کی 16لاکھ سے زائد سے بچے تعلیمی اداروں سے باہر ہیں۔

ان میں سے اکثریت بچیوں کی ہے۔

درایں اثنا چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ کی زیرصدارت تعلیمی اداروں میں سیکورٹی انتظامات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں بلوچستان یونیورسٹی، سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی، بولان میڈیکل کالج اور بلوچستان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں سیکورٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا گیا۔

چیف سیکریٹری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چارسدہ میں باچاخان یونیورسٹی پر ہونے والے افسوسناک حملے کے بعد بلوچستان میں کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے طلباء اور طالبات کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہرممکن اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن یونیورسٹیوں کی چاردیواری نہیں ہے وہاں چاردیواری تعمیر کی جائے اور جن اداروں کی چاردیواری ہے ان کو اونچا کیا جائے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے اجلاس کو ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں کے ہاسٹلوں میں غیرمتعلقہ افراد کو رہنے کی اجازت نہ دی جائے اور ہاسٹلوں کو چیک کیاجائے۔

انہوں نے ہدایت کی تعلیمی اداروں میں اضافی نفری تعینات کیا جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں ایف سی اہلکار تعینات کئے جائیں۔