سکول اسمبلی’گراؤنڈ کےبجائے کلاس روم‘ میں کروانے کا حکم

Image caption تعلیمی اداروں کی بیرونی دیواروں کو مقررہ اونچائی تک بلند کرنے اور ان پر خاردار تاروں کو لگانے کو ہر حال میں یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزارتِ تعلیم نے سکولوں میں معمول کی اسمبلی گراؤنڈ کے بجائے عارضی طور پر کلاس رومز میں کروانے کا حکم جاری کیا ہے اور طلبہ، اساتذہ اور مقامی آبادی کی حفاظت کے لیے 1122، سول ڈیفینس اور دیگر اداروں کو فرضی مشقیں کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

صوبائی محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ سنیچر کو پنجاب کے تعلیمی اداروں کے تمام ایجوکیشنل ڈسٹرکٹ آفیسر، ای ڈی اوز نے وزیرِ تعلیم رانا مشہود احمد خان سے ملاقات کی۔

محکمہ تعلیم کے اہلکار کا کہنا تھا ملک کی موجودہ صورتحال میں صوبے بھر کے سکولوں کے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ وہ عارضی طور پر اسمبلی معمول کے مطابق گراؤنڈ کے بجائے جماعت میں ہی کرایا کریں۔

صوبائی وزیر نے ای ڈی اوز ایجوکیشن کی کانفرنس سے خطاب بھی کیا اور سکولوں کی حفاظت کے لیے طے شدہ ضابطہ کار ایک پریس ریلیز بھی جاری کیا گیا ہے جس میں تعلیمی اداروں کے ای ڈی اوز سے کہا گیا ہے کہ ہر تعلیمی ادارے میں آمدورفت کے لیے ایک ہی گیٹ کا استعمال کریں اور ہر آنے جانے والے شخص کے کوائف درج کریں۔

Image caption پاکستان کے بہت سے تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے ہی محروم ہیں

وزیرِ تعلیم مشہود علی خان نے تعلیمی اداروں کی بیرونی دیواروں کی مقررہ اونچائی تک بلند کرنے اور ان پر خاردار تاروں کو لگانے کو ہر حال میں یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔

اس کے علاوہ سکولوں میں سکیورٹی گارڈز، سی سی ٹی وی کیمرے اور میٹل ڈیٹیکٹرز کی تنصیب کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر نے یہ بھی کہا کہ طلبہ، اساتذہ اور مقامی آبادی کی حفاظت کے لیے 1122، سول ڈیفینس اور دیگر ادارے فرضی مشقیں بھی کریں۔

ای ڈی اوز کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طلبا و طالبات کو انتہاپسندی، دہشت گردی اور عدم برداشت و فرقہ واریت سے بچانے کے لیے رواداری، بردباری اور بین لامذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے چارٹ اور بینرز آویزاں کریں۔

اسی بارے میں