ایکسٹینشن پر یقین نہیں رکھتا: جنرل راحیل شریف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے اور وقت پر ریٹائر ہوں گے۔

پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پر آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے ’پاکستانی فوج ایک عظیم ادارہ ہے۔ میں ایکسٹینشن میں یقین نہیں رکھتا۔‘

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت رواں برس نومبر میں ختم ہورہی ہے.

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قیاس آرائیاں کافی عرصے سے خبروں میں گردش کر رہی تھیں۔

جنرل راحیل شریف نئے آرمی چیف مقرر

پاکستانی فوج کی کمان جنرل کیانی سے جنرل راحیل کو منتقل

جنرل باجوہ نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف کا مزید کہنا ہے کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کی مقررہ تاریخ کو ریٹائر ہو جائیں گے۔‘

ٹویٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’شدت پسندی کے خاتمے کےلیے جاری کوششیں جاری رہیں گی اور ملک کے قومی مفادات کا دفاع ہر صورت میں کیا جائے گا۔‘

یاد رہے کہ جنرل راحیل شریف نے 29 نومبر 2013 کو بری فوج کے سربراہ کے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔

ان سے قبل جنرل پرویز اشفاق کیانی چھ سال بری فوج کے سربراہ رہے تھے۔ ان کو پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2010 میں تین سال کی ایکسٹینشن دی تھی۔

جنرل راحیل شریف پاکستان کے بری فوج کے 15ویں سربراہ ہیں۔

جنرل راحیل چیف آف آرمی سٹاف بننے سے قبل انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ اویلوئیشن کے عہدے پر فائز تھے۔ اس کے علاوہ وہ کور کمانڈر گوجرانوالہ اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈنٹ کے عہدوں پر بھی کام کر چکے ہیں۔

1956 میں کوئٹہ میں پیدا ہونے والے جنرل راحیل شریف نے 1976 میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا اور وہ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں نشانِ حیدر پانے والے میجر شبیر شریف کے چھوٹے بھائی ہیں۔

وہ سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر تھے جبکہ دوسرے سینیئر ترین جنرل راشد محمود کو پاکستانی افواج کا سب سے اعلیٰ مگر رسمی عہدہ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں