’جنرل راحیل شریف کا بیان قبل از وقت ہے‘

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے پیر کو ملازمت میں توسیع نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایکسٹینشن پر یقین نہیں رکھتے۔

ان کا یہ بیان جہاں حیران کن ہے وہیں بہت سے حلقے اس کا خیرمقدم بھی کر رہے ہیں مگر کچھ تجزیہ نگاروں اور سیاست دانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ میں ابھی بہت وقت باقی ہے اور حالات اور فیصلہ بدل بھی سکتا ہے۔

حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے رکن اور سابق فوجی جنرل عبدالقیوم نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’شریف ایک سولجر ہیں انھیں پتہ ہے کہ مدت ملازمت تین سال ہے، وہ باتیں کم اور کام زیادہ کرتے ہیں۔‘

جنرل (ر) قیوم کہتے ہیں کہ اگرچہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن کی خبریں گذشتہ سال سے ہی چل رہی تھیں تاہم حال ہی میں ٹی وی پر پروگراموں میں اس پر زیادہ بات چیت ہوئی، ایسے میں یہ بھی کہا جانے لگا کہ کہیں یہ باتیں فوج ہی تو نہیں کروا رہی۔

وہ کہتے ہیں کہ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ حکومت کا فیصلہ ہے، حکومت نومبر میں فیصلہ کرے گی۔‘

دوسری جانب پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی کی جانب سے اس خبر کاخیرمقدم کیا ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار عارف نظامی ان صحافیوں میں شامل ہیں جنھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہوگی تاہم اب آرمی چیف کے بیان پر اپنے تبصرے میں انھوں نے کہا کہ ’میں بھی مجرم ہوں، میں نے یہ خبر دی تھی کہ آرمی چیف کو پیشکش کی گئی ہے اور ان سے بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ وہ شاید بے چینی محسوس کرنے لگے، یہ بیان بہت قبل ازوقت ہے اس کی ضرورت نہیں تھی۔‘

عارف نظامی بتاتے ہیں کہ حکمراں جماعت کی سینیئر قیادت کے تین اہم نام اس بات چیت میں شامل تھے اور ملازمت میں توسیع کے لیے ایک سال کی پیشکش شامل تھی۔

سینئر صحافی اور کالم نگار ایاز امیر کے خیال میں آرمی چیف نے یہ بیان اس لیے دیا ہے تاکہ حکومت کوئی سیاست نہ کر سکے۔

وہ کہتے ہیں کہ’پاکستان کی تاریخ میں آرمی چیف کو ملازمت میں توسیع دینے کی غلط روایت جنرل ایوب کے دور میں پڑی اور پھر جنرل ضیاالحق نے ساڑھے گیارہ سال تک اقتدار میں رہ کر مزید بیڑہ غرق کر دیا‘۔

جنرل ضیاالحق کے بعد جنرل وحید کاکڑ کو اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے ملازمت میں توسیع کی پیشکش کی تاہم انھوں نے اس سے انکار کر دیا تھا۔

مگر آرمی چیف کی فہرست میں ایک نام جنرل پرویز مشرف کا بھی ہے جنھوں نے بطور صدر اپنی مدت ملازمت میں خود ہی توسیع کرلی۔

ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جہاں کسی آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے انتظار میں موجود دوسرے افسران کو ریٹائر ہونا پڑتا ہے وہیں دیگر لوگوں میں مایوسی بھی پھیلتی ہے۔

لیکن کیا ملک کے غیر معمولی حالات میں جنرل راحیل شریف کو توسیع ملنا ایک ضرورت نہیں؟

اس سوال کے جواب میں تجزیہ کاار جنرل کیانی کی مثال دیتے ہیں۔

عارف نظامی کہتے ہیں کہ ’آپ بہت زیادہ ماضی میں نہ جائیں، جنرل کیانی کو توسیع ملی، انھوں نے سوات میں آپریشن تو کیا لیکن (توسیع کے بعد کے) تین سال تک دہشت گردی کی خلاف جنگ نہیں لڑی گئی اور آج اس کا ہم کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔‘

ایاز امیر کے خیال میں اشفاق پرویز کیانی نے بطور آرمی چیف سوات آپریشن تو اچھا کیا تاہم ’اس کے بعد وہ بیٹھ گئے اور ان کی ساکھ بھی خراب ہوئی۔‘

جنرل (ر) عبدالقیوم کہتے ہیں کہ ’عظیم لوگ عہدوں کے پیچھے نہیں جاتے بلکہ انہیں عہدوں کی پیشکش کی جاتی ہے‘۔ ان کے خیال میں جنرل کیانی اگر توسیع نہ لیتے تو اسامہ بن لادن کے واقعے کے بعد انہیں تنقید کی زد میں نہ آنا پڑتا۔

اسی بارے میں