افتخار چوہدری کو بلٹ پروف گاڑی دینے پر جواب طلب

افتخار محمد چوہدری تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افتخار محمد چوہدری دسمبر سنہ 2013 میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہوگئے تھے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بلٹ پروف گاڑی فراہم کرنے سے متعلق وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

عدالت نے وزارِت قانون کو اس بارے میں ایک روز میں تفصیلی جواب داخل کروانے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ حکم اسلام آباد کے ایک شہری حنیف راہی کی درخواست پر دیا جو اُنھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی تھی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے تین وکلا کی درخواست پر موجودہ حکومت کو سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بلٹ پروف گاڑی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

وفاقی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹراکورٹ اپیل بھی دائر کر رکھی ہے لیکن اس درخواست کی کافی عرصے سے سماعت نہیں کی گئی۔

وکیل رہنما اور درخواست گزار شیخ احسن الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کے خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں افتخار محمد چوہدری کا نام اس لسٹ میں سرفہرست ہے جنہیں شدت پسندوں کی طرف سے جان کا خطرہ ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ چونکہ سابق چیف جسٹس کو مختلف بارز سے خطاب کے لیے ملک کے محتلف شہروں میں جانا پڑتا ہے اس لیے اُن کی حفاظت کے لیے اُنھیں بلٹ پروف گاڑی فراہم کی جائے۔

اس فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل کی سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو ایسا حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

درخواست گزار حنیف راہی کا کہنا تھا کہ بلٹ پروف گاڑی کا پیٹرول اور گاڑی کے دیگر اخراجات عوام کے دیے ہوئے ٹیکسوں سے ادا کیے جا رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر اسی روایت کو برقرار رکھا گیا تو پھر حکومت کو سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے ہر چیف جسٹس کو بلٹ پروف گاڑی دینی پڑے گی جو کہ ملکی خزانے پر بوجھ کے مترادف ہوگا۔

واضح رہے کہ افتخار محمد چوہدری دسمبر سنہ 2013 میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہوگئے تھے جس کے بعد اُنھوں نے حال ہی میں پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے سیاسی جماعت بھی بنائی ہے اور اس پارٹی میں زیادہ ارکان کا تعلق وکلا برادری سے ہے۔

اسی بارے میں