ممبئی حملہ کیس کی درخواستیں عدم پیروی کے باعث مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ درخواستیں اس مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری اظہر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممبئی حملوں کے مرکزی مجرم اجمل قصاب اور شریک ملزم بھارتی شہری فہیم انصاری کو اشتہاری قرار دینے سے متعلق دائر کی گئی درخواست عدم پیروی کی وجہ سے مسترد کردی۔

عدالت عالیہ نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے الزام میں ذکی الرحمان لکھوی اور گرفتار دیگر ملزمان کی آواز کے نمونے حاصل کرنے سے متعلق درخواست بھی مسترد کردی۔

یہ درخواستیں اس مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری اظہر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

اس مقدمے کے سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ اُنھیں ہائی کورٹ کی جانب سے اس مقدمے کی سماعت کے لیے پیشگی مطلع نہیں کیا گیا۔

جسٹس نور الحق قریشی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی تاہم عدم پیروی کی وجہ سے ان درخواستوں کو مسترد کردیا۔

بھارتی حکومت کی جانب سے ممببئی حملوں کے مقدمے میں کی جانے والی تفتیش میں کچھ افراد کی آواز کے نمونے پاکستانی حکومت کو بھجھوائے گئے تھے۔

پاکستان میں ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے کی تفتیش کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ان آوازوں کو میچ کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔

سرکاری وکیل چوہدری اظہر نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے اُنھیں کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا اور نہ ہی ایف آئی اے کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ دو سال قبل دائر کی جانے والی درخواستوں کی اچانک سماعت کر کے عدم پیروی کی وجہ سے مسترد کی گئیں۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سنہ 2010 میں ان درخواستوں کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد وفاقی حکومت نے اسے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

چوہدری اظہر کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کی جانب سے ملنے والی ہدایت کی روشنی میں عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کریں گے۔

ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں مرکزی ملزم ذکی الرحمن لکھوی ضمانت پر ہیں جبکہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے دیگر سات ملزمان ابھی تک راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں۔

اسی بارے میں