امریکی فضائیہ اور انڈین ایئر لائن پاکستان کے مقروض

تصویر کے کاپی رائٹ US Airforce
Image caption افغانستان کی جنگ کے دوران امریکی طیارے پاکستان کے اڈوں سے پرواز کرتے رہے ہیں

پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ امریکی ایئر فورس، انڈین ایئر لائن سمیت کئی فضائی کمپنیوں نے 14 ارب روپے کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔

منگل کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری سول ایوی ایشن عرفان الہٰی نے بتایا کہ امریکی فضائیہ نے سی اے اے کو ایک کروڑ 80 لاکھ روپے دینے ہیں اور رقم کے حصول کے لیے پاکستان میں امریکی سفارت خانے کے ذریعے کئی بار پیغام پہنچایا گیا ہے لیکن تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی فضائیہ نے یہ رقم افغانستان میں لڑائی کے دوران پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے، کرائے، بجلی کے بلوں اور ایروناٹیکل ریونیو کی مد میں ادا کرنی ہے۔

سول ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فضائیہ کے ذمے رقم سنہ 2002 سے 2003 کے دوران سے واجب الادا ہے۔

افغانستان میں امریکہ کے حملے کے بعد پاکستان کے عسکری ہوائی اڈے امریکہ اور اتحادی افواج کے زیرِ استعمال رہے ہیں۔

صوبہ بلوچستان میں شمسی ایئر بیس اور شہباز ایئر بیس امریکی فضائیہ کے استعمال میں تھیں اور ان ایئر بیس پر اتحادی افواج کے لڑاکا اور مال بردار جہاز اترتے تھے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ تربیلا غازی ایئر بیس سمیت دوسرے ایئر بیس سے افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں کے لیے امریکی ڈرون بھی پرواز کرتے تھے۔

سنہ 2011 میں پاک افغانستان کی سرحد کے قریب سلالہ کے مقام پر فوجی چوکی پر امریکی اتحادی افواج کی بمباری میں پاکستان فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد پاکستان نے شمسی ایئر بیس کو امریکہ سے خالی کروا لیا تھا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ ایئر پورٹ ٹیکس کی مد میں انڈین ایئر لائن، رشین ایئر لائن اور ملکی فضائی کمپنیوں کے ذمے میں رقوم واجبِ الادا ہیں لیکن سب سے زیادہ 8 ارب روپے پاکستان انٹرنیشنل لائن کے ذمے واجب الادا ہے۔

سیکریٹری سول ایوی ایشن عرفان الہٰی نے کہا کہ اب تک مجموعی طور پر چار ارب روپے وصول کر لیے گئے ہیں جبکہ 10 ارب کی وصولی کے لیے کوشش کی جا رہی ہے۔