ہر سال تقریباً 50 لاکھ پاکستانی پاسپورٹوں کا اجرا

Image caption پرانے پاسپورٹ کے دوبارہ اجرا کے لیے جلد آن لائن اجرا کا سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے: ڈی جی پاسپورٹ عثمان باجوہ

پاکستان میں گذشتہ ایک سال کے دوران پاسپورٹ بنوانے کا رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور ملک بھر میں اب یومیہ اوسطاً 24 ہزار افراد پاسپورٹ بنوانے کے لیے درخواست دیتے ہیں۔

اسلام آباد میں ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ عثمان احمد باجوہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل تک 16 سے 18 ہزار افراد یومیہ پاپسورٹ بنوانے کے لیے درخواست دیتے تھے لیکن اب یہ تعداد بڑھ گئی ہے اور پاسپورٹ آفس سالانہ پچاس لاکھ پاسپورٹ بنا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں 95 پاسپورٹ آفس ہیں جبکہ اگلے پندرہ ماہ میں مزید 73 دفاتر کھولے جا رہے ہیں تاکہ بڑے شہروں کے پاسپورٹ مراکز پر رش کم ہو سکے۔

عثمان باجوہ نے کہا کہ ملک میں پاسپورٹ کی فراہمی کے نظام میں کمیشن اور ایجنٹوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائی جا رہی ہے اور عالمی بینک کے تعاون سے موبائل پیغام کے ذریعے ایس ایم ایس رابطہ سروس شروع کی ہے۔

جس کے تحت پاسپورٹ بنوانے کے لیے درخواست دینے والوں سے ایس ایم ایس کے ذریعے اُن کی شکایت اور تاثر جاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔

’ایک مہینے میں تین لاکھ پیغامات بھیجےگئے جس کے جواب میں تقریباً 28 ہزار جواب آئے اور اُن پر ہم نے کارروائی کی۔‘

انھوں نے بتایا کہ پاسپورٹ کے مراکز پر دباؤ بہت زیادہ ہے اور لمبی قطاروں کی وجہ سے پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے والے کو اوسطً تین گھنٹے کے مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے جو بہت لمبا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ کچھ برسوں کے دوران سیاسی اثررورسوخ استعمال کر کے عام افراد کو بھی سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ جاری کیے گئے

عثمان باجوہ نے بتایا کہ ’فی درخواست وقت زیادہ لگتا ہے اور ایجنٹ اسی کا فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ کمیشن لیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو دفتروں کے چکروں سے نکالیں۔ اسی لیے اب نیشنل بینک کے بجائے پاسپورٹ کی فیس موبائل کیش ٹرانزیکشن کے ذریعے بھی جمع کروا سکتے ہیں۔‘

حکام کی جانب سے پاکستان کے پانچ بڑے شہروں میں گھر پر پاسپورٹ کی فراہمی کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے جبکہ آئندہ تین ماہ میں ملک بھر میں گھر گھر پاسپورٹ کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ جلد حکومت ایسا طریقہ کار متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت پاسپورٹ کے اجرا کے لیے آن لائن نظام متعارف کروایا جائے گا۔

ڈی جی پاسپورٹ نے بتایا کہ ’پاسپورٹ کے اجرا کے لیے آن لائن سہولت سے سب سے زیادہ فائدہ سمندر پار پاکستانیوں کو ہوگا اور سمندر پار پاکستانیوں کا 75 فیصد لوڈ ختم ہو جائے گا۔‘

پاکستان میں گذشتہ کچھ برسوں کے دوران سیاسی اثررورسوخ استعمال کر کے عام افراد کو بھی سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ جاری کیےگئے ہیں۔

ڈی جی پاسپورٹ عثمان باجوہ نے بتایا کہ ایسے تقریباً دو ہزار پاسپورٹ منسوخ کیےگئے ہیں اور کسی غیر مجاز شخص کو سرکاری پاسپورٹ جاری نہیں کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں