’اگر انھوں نے نکاح کر دیا تو ہم کیا کریں گے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں پریس کلب ایک کونے میں ایک مرد تین خواتین اور تین بچیوں کے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھا ہے جس کے ہاتھ میں ایک چوتھی بچی کی تصویر موجود ہے۔

یہ اجو میگھواڑ ہیں جن کی 13 سالہ بیٹی رادھیکا کو تقریباً دو ہفتے قبل اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ اور اس کی بیوی مزدوری کے لیے کارخانے گئے ہوئے تھے۔

’وہ ہمارے گھر کے سامنے رہتے تھے، ان کا لڑکا میری بیٹی کو اغوا کر کے لے گیا اب وہ اس کو مسلمان کرنا چاہتے ہیں اگر انھوں نے اس کا نکاح کر دیا تو ہم کیا کر سکیں گے؟‘

احتجاج کے بعد پولیس نے رادھیکا کے اغوا کی ایف آئی آر درج کر لی ہے لیکن اجو میگھواڑ کے مطابق پولیس کہتی ہے کہ ’موبائل گاڑی میں پیٹرول ڈالو تو پیچھا کریں گے‘ اب ان کے پاس تو گھر کے کرائے کے جتنے پیسے بھی نہیں بچے۔

حیدر آباد سے ڈھائی سو کلومیٹر دور واقع عمرکوٹ ضلعے کے علاقے سامارو میں گنے کے کھیتوں کے درمیان خالی میدان میں چار گھر واقع ہیں، ان میں سے ایک گھر میں 13 سالہ نیلاں کولھی اپنے بھائی اور بھابھی کے ساتھ رہتی ہیں۔

نیلاں کولھی کوگذشتہ سال دو افراد اغوا کر کے لے گئے تھے۔ انھیں ایک مدرسے میں اور بعد میں کسی گھر میں رکھا گیا جہاں سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں اور کوٹ غلام محمد شہر میں ایک گھر میں پناہ لی۔

کھوکھر برادری کے لوگوں نے اس گھر کا محاصرہ کر کے نیلاں کی حوالگی کا مطالبہ کیا اسی دوران پولیس نے لڑکی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ بالآخر معاملہ عدالت میں پہنچ گیا۔

Image caption نیلاں کولھی کوگذشتہ سال دو افراد اغوا کر کے لے گئے تھے، اسے مدرسے اور بعد میں کسی گھر میں رکھا گیا جہاں سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں اور کوٹ غلام محمد شہر میں ایک گھر میں پناہ لی

نیلاں نے عدالت میں بیان دیا کہ ان کو اغوا کر کے ایک جگہ پہنچایا گیا جہاں کاغذ پر انگوٹھے کے نشان لیے گئے اور بتایا گیا کہ ’اب تم مسلمان ہو چکی ہے اور تمھارا نکاح بھی کر دیا گیا ہے‘ لیکن وہ اس کو نہیں مانتیں۔

نیلاں کو بیان کے بعد عدالت نے رشتے داروں کے حوالے کر دیا لیکن وہ اب بھی خوفزدہ ہیں کہ انھیں دوبارہ اغوا کر لیا جائے گا۔

نیلاں کولھی کے گھر سے کچھ ہی دور مدرسہ گلزار خلیل واقع ہے جہاں ہر سال سینکڑوں ہندوؤں کا مذہب تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہاں کی انتظامیہ نے ایک رجسٹر بھی رکھا ہے جس میں مسلمان ہونے والوں کی تفصیلات اور تصاویر موجود ہیں۔گذشتہ سال یہ تعداد 192 تھی جن میں 108 خواتین تھیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اس مدرسے کے سربراہ پیر ایوب جان کا کہنا ہے کہ وہ کسی کا جبری مذہب تبدیل نہیں کرتے۔ ’لوگ رضاکارانہ طور پر ہمارے پاس آتے ہیں جب شور شرابہ ہوتا ہے تو ہم انھیں مشورہ دیتے ہیں کہ وہ عدالت میں جائیں۔ اب تک جو لوگ بھی مسلمان ہوئے ہیں ان سب کو عدالت کی معرفت ہی سرٹیفیکیٹ جاری کیا ہے۔‘

پیر ایوب جان کے مطابق ان کے پاس جو بھی آتا ہے اس کا وہ مختصر انٹرویو لیتے ہیں، جب یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ صدقِ دل سے مسلمان ہونا چاہتا ہے تو اس کو کلمہ پڑھاتے ہیں۔ اس کے پیچھے کیا اسباب ہیں، ان سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔

’جو لڑکیاں آتی ہیں ان کے ساتھ مرد ہوتا ہے، جو کہتا ہے کہ میں اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں اور وہ اس رشتے کو قانونی تحفظ دیتے ہیں، بجائے اس کے کہ کوئی غلط کام کریں۔ آسان ترکیب یہ ہے کہ اس کو مسلمان کر کے نکاح کر دیا جائے، اور یہ نکاح زبردستی نہیں کیا جاتا۔‘

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 80 لاکھ سے زائد ہندو آبادی موجود ہے جس کی اکثریت صوبہ سندھ میں رہتی ہے۔

ہندو برادری کا الزام ہے کہ ان کی نابالغ لڑکیوں کو اغوا کر کے جبری طور پر مذہب تبدیل کر کے نکاح پڑھا دیا جاتا ہے اور اس سے انھیں تحفظ دینے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

سندھ اسمبلی میں قانون سازی کے لیے ایک مسودۂ قانون پیش کیا گیا ہے جس میں مذہب کی جبری تبدیلی کو جرم سمجھا جائے گا۔

Image caption مدرسہ گلزار خلیل کے سربراہ پیر ایوب جان کہتے ہیں کہ وہ کسی کو جبری مسلمان نہیں کرتے

اس مجوزہ قانون کے مطابق نابالغ فرد کی تبدیلی مذہب کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہوگا، متاثرہ فرد کو 24 گھنٹے میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ مذہب کی جبری تبدیلی کی سزا کم سے کم پانچ سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور عدالتیں یہ مقدمات 90 روز میں نمٹانے کے لیے پابند ہوں گی۔

مسلم لیگ فنکشنل کے رکن نند کمار گوکلانی نے جبری مذہب کی تبدیلی کا بل اسمبلی میں پیش کیا ہے جو اب لیگل کمیٹی کے بعد اقلیتی امور کی سٹینڈنگ کمیٹی کے پاس موجود ہے۔

نند کمار کا کہنا ہے کہ ہندو برادری میں عدم تحفظ کا احساس موجود ہے، اس لیے یہاں سے نقلِ مکانی ہو رہی ہے۔

پیر ایوب جان سندھ اسمبلی کے مجوزہ قانون کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون کو کالا قانون سمجھتے ہیں، اور ’جس نے بھی یہ حرکت کی ہم اس جماعت کا بوریا بستر اٹھوا دیں گے اور بھرپور مخالفت کریں گے۔‘

اسی بارے میں