’اورنج ٹرین ہزاروں افراد کو بے گھر کرنے کا منصوبہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے چار فروری تک شہر کی 11 تاریخی عمارتوں کے اردگرد 200 فٹ تک تعمیراتی کام روکنے کا حکم دیا ہے

لاہور میں سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکن شہر کے تاریخی اثاثوں، ماحول اور ان اثاثوں سے وابستہ آبادیوں کے سماجی تانے بانے کے تحفظ کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی کئی تنظیموں اور شخصیات نے لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب حکومت کے اورنج لائن ٹرین منصوبے کے خلاف رٹ دائر کی ہے جس کی باقاعدہ سماعت چار فروری سے شروع کی جا رہی ہے۔

عدالت نے چار فروری تک شہر کی 11 تاریخی عمارتوں کے اردگرد 200 فٹ تک تعمیراتی کام روکنے کا حکم دیا ہے۔

لاہور میں ٹرانسپورٹ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے اورنج لائن ٹرین منصوبے پر تعمیراتی کام کا آغاز گذشتہ برس شروع کیا تھا۔

تقریباً 27 کلو میٹر طویل اس لائن کا کچھ حصہ زیرِ زمین بھی ہو گا۔ یہ ٹرین لاہور کے تاریخی اور سب سے زیادہ گنجان آباد راستے سے گزرے گی اور اس راستے میں لگ بھگ 16 کے قریب ایسی عمارتیں ہیں جنھیں تاریخی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے۔

ان عمارتوں میں شالیمار باغ، چوبرجی، زیب النسا کا مقبرہ، لکشمی بلڈنگ، جنرل پوسٹ آفس، بابا موج دریا کا دربار، ایوان اوقات، سپریم لاہور رجسٹری اور سینٹ اینڈریو چرچ جیسی عمارتیں شامل ہیں۔

لاہور میں سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف ہزاروں لوگوں کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ تعمیراتی کام کے آغاز نےشہر کے تاریخی ورثے کو ناقابل تلافی نقصان کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

منصوبے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے والوں میں انسانی حقوق کی ممتاز کارکن نیلم حسین بھی شامل ہیں۔

وہ کہتی ہیں:’کہیں عمارتوں کو براہ راست خطرہ ہے اور کہیں یہ لائن اتنی قریب سے گزر رہی ہے کہ اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔ مجھے خطرہ ہے کہ جس طرح چوبرجی کی بنیادوں کے قریب سے سریا گزارا جا رہا ہے تو یہ اورنج لائن کی تعمیر سے پہلے ہی گر جائے گی۔ نابھا روڈ پر سینٹ اینڈریو چرچ بھی اس کی زد میں ہے۔ اس سے تو اقلیتوں کے حقوق کی بھی پامالی ہو رہی ہے۔‘

عدالت نے چار فروری تک 11 تاریخی ورثوں کے اردگرد 200 فٹ کے احاطے میں کام روکنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم یہ رٹ دائر کرنے والے 40 سے زیادہ افراد اور تنظیموں کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے صوبے میں تاریخی ورثے کی حفاظت سمیت سات مقامی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

ثقافتی اثاثوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو اور شفافیت کے لیے کام کرنے والی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل جیسے ادارے بھی حکومت سے یہ اپیل کر چکے ہیں کہ اس منصوبے کو روکا جائے لیکن حکومت کو کوئی اثر نہیں ہوا۔

رٹ کرنے والے آرکیٹیکٹ کامل خان ممتاز کہتے ہیں: ’میکلوڈ روڈ کے درمیان برطانوی دور کا ایک ورثہ غائب ہو چکا ہے۔ باقی کے قریب کرینیں چل رہی ہیں۔ یہ کہتے ہیں اگر کوئی نقصان ہوا تو مرمت کر دیں گے۔ یہ تو احمقانہ بات ہے۔ تاریخی عمارتوں کی یہی تو اہمیت ہے کہ وہ پرانی ہیں۔ ان کی حفاظت کرنی چاہیے کیونکہ وہ دوبارہ تعمیر نہیں ہو سکتیں۔‘

یہ معاملہ تاریخی عمارتوں کے ساتھ ساتھ ان کے گرد نسل در نسل بسی آبادیوں کا بھی ہے۔ اورنج لائن کی ایک اور نقاد نیشنل کالج آف آرٹس میں فائن آرٹس کی ایسوسی ایٹ پروفیسر مریم حسین ہیں۔

ان کے مطابق: ’یہ صرف اثاثوں کا نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کا بھی مسئلہ ہے۔ ہزاروں لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور علاقہ میجسٹریٹ کے ذریعے لوگوں کو زبردستی ان کے گھروں سے نکالا جا رہا ہے اور ان کے مکان اور دکانیں توڑی جا رہی ہیں۔‘

پنجاب حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اورنج لائن منصوبہ لاہور کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ٹرانسپورٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش ہے۔

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے دو ماہ پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ان خبروں کی تردید بھی کی تھی کہ کسی ثقافتی اثاثے کو گرایا جا رہا ہے۔

منصوبے کے مخالفین کہتے ہیں کہ اس سے صرف دو فیصد لوگوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت ملے گی اور اگر تاریخی عمارتیں نہ بھی گرائی گئیں تو ان کے قریب ہونے والے تعمیراتی کام سے وہ اتنی کمزور ہو جائیں گی کہ تھوڑے عرصے میں خود ہی ڈھے جائیں گی۔

اسی بارے میں