جامعہ حفصہ کو جانے والی سڑکوں پر رینجرز تعینات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد انتظامیہ نے 2007 میں لال مسجد کے آپریشن کے دوران جامعہ حفصہ کو مسمار کر دیا تھا

اسلام آباد کی انتظامیہ نے سنیچر کو خواتین کے مدرسے جامعہ حفصہ کے قرب وجوار میں پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کی ایک بھاری نفری تعینات کردی ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ حفصہ کی طرف جانے والی گلیوں کو کنکریٹ کے بلاک لگا کر آمدورفت کو محدود کردیا گیا ہے۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس اسلام آباد رضوان گوندل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اقدام وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے حکم پر اُٹھایا گیا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ سیکٹر جی سیون تھری اور ٹو میں پولیس اور رینجرز کا عارضی ناکہ لگایا گیا ہے جس پر ڈیڑھ سو پولیس اور ریجرز اہلکار چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہوں گے۔

نیشنل ایکشن پلان کی راہ میں لال مسجد

ایس پی سٹی کا کہنا تھا کہ اس عارضی ناکے کا مقصد علاقے میں رہنے والے اور آنے جانے والے افراد سے متعلق معلومات اکھٹا کرنا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ کا محاصرہ نہیں کیاگیا اور نہ ہی کسی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبداللہ کی بیوی امِ حسام جامعہ حفصہ کی منتظم ہیں

رضوان گوندل کا کہنا تھا کہ اس عارضی ناکے کو ختم کرنے کا فیصلہ اعلیٰ حکام ہی کریں گے۔

اس علاقے کے مکینوں کی زیادہ تر تعداد سرکاری ملازمین کی ہے اور اس علاقے میں زیادہ تر چھوٹے گھر ہیں جہاں پر زیادہ تر نچلے گریڈ کے اہلکار رہائش پذیر ہیں۔

اس دینی مدرسے کے معاملات کی نگرانی لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ امِ حسام کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ گذشتہ برس اس مدرسے کی طالبات نے خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے سربراہ ابوبکر بغدادی کو ایک خط لکھا تھا جس میں اُن کی حمایت کی گئی تھی۔

خفیہ اداروں کی طرف سے وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مولانا عبدالعزیز کو چاہنے والے اُنھیں پاکستان میں دولت اسلامیہ کا رہنما سمجھتے ہیں۔

مولانا عبدالعزیز نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اسلام سے متعلق اس تنظیم کے فلسفے کی حمایت کرتے ہیں جبکہ اُن کی تشدد پسند کارروائیوں کی حمایت نہیں کرتے۔

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لال مسجد کے سابق خطیب کے خلاف مقدمات درج ہونے کے باوجود اُن کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی۔

اسی بارے میں