’پاکستان جوہری بجلی گھروں کی تعمیر میں خود کفیل نہیں‘

Image caption پاکستان میں مذید چار مختلف جوہری بجلی گھر زیر تعمیر ہیں (فائل فوٹو)

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ پاکستان جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے کئی مراحل میں سے چند میں خود کفیل ہو گیا ہے تاہم مکمل خود کفالت کا عمل خاصا طویل ہے۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ممبر انجنیئرنگ سید ضیاالدین نے یہ بات کافی عرصے بعد فعال ہونے والی تنظیم ’پاکستان نیوکلیئر سوسائٹی‘ کے زیرِ اہتمام پاکستان میں جوہری توانائی کے منظرنامے کے عنوان پر منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں بتائی۔

سید ضیاالدین نے بتایا کہ پاکستان جوہری بجلی گھروں کی تعمیر میں جگہ کے انتخاب سے لے کر اُس کے کام شروع کرنے تک کے کئی مراحل طے کرنے میں خود کفیل ہوگیا ہے اور چھوٹے بڑے پانچ سو پُرزے ملک میں موجود مخلتف ذرائع سے بناتا ہے لیکن اُس کے باوجود زیادہ تر پرزے پاکستان کو درآمد کرنے پڑتے ہیں۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان نیو کلیئر سوسائٹی کے نومنتخب صدر ڈاکٹر جاوید خورشید نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے بچاؤ میں جوہری صنعت کا بڑا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جوہری بجلی گھروں کے ذریعے توانائی حاصل کر کے پاکستان کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر بجلی کی ترسیل کو برقرار رکھ سکتا ہے۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین محمد نعیم کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں تین مختلف جوہری بجلی گھر گذشتہ ساٹھ سالوں سے کامیابی سے چل رہے ہیں جس نے ادارے کی ہمت بڑھائی اور اب مزید چار مختلف جوہری بجلی گھر زیر تعمیر ہیں جن میں 1000 میگا واٹ کے دو منصوبے کراچی میں زیر تعمیر ہیں جو 2020 تک کام شروع کر دیں گے۔

محمد نعیم نے کہا کہ حکومت پاکستان نے اٹامک انرجی کمیشن سے 2030 تک 8800 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف دیا ہے۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر انصر پرویز کا کہنا تھا کہ ’کے ٹو‘ اور ’کے تھری‘ نامی جوہری بجلی گھر، جن کی تعمیر کراچی میں جاری ہے، تھرڈ جنریشن پاور پلانٹس ہیں اور اِن میں حفاظتی اقدامات دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق ہیں۔ اُن کے مطابق کسی بھی حادثے کی صورت میں یہ جوہری بجلی گھر خودکار نظام کے تحت بند ہوجانے کی صلاحیت کے علاوہ کئی دیگر حفاظتی اقدامات سے لیس ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نئے ایٹمی بجلی گھروں میں سے ایک چشمہ کے مقام پر قائم کیا جا رہا ہے (فائل فوٹو)

ڈاکٹر انصر پرویز کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جہاں قومی فیصلوں میں سول سوسائٹی اور میڈیا کا کردار شامل ہوتا ہے وہاں جوہری بجلی گھروں کی تعمیر میں مشکلات پیش آتی ہیں لیکن پاکستان کو اپنی ضرورتوں اور وسائل کو مدِ نظر ضرور رکھنا چاہیے۔

انھوں نے پاکستان میں کیے جانے والے ایک جائزے کا حوالہ دیا جس میں ان کے بقول بتایا گیا تھا کہ یونیورسٹی کے طلبا، گھریلو خواتین اور سیاست دانوں کے خیال میں جوہری بجلی گھروں سے تباہی پھیلنے کا خدشہ ہے، اگرچہ تاجر، سرمایہ دار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ زیادہ تباہی کے اسباب دہشت گردی، ماحولیاتی آلودگی اور ٹریفک حادثات ہو سکتے ہیں۔

سیمینار میں پاکستان اٹامک انرجی ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین انور حبیب نے بتایا ہے کہ کسی بھی جوہری بجلی گھر کی تعمیر میں آغاز سے لے کر اُس کے کام شروع کرنے تک چھ سے سات سال کا عرصہ درکار ہوتا جس میں ہر مرحلے پر جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے وضع کیےگئے اصولوں کے مطابق پاکستان کا جوہری نگرانی کا ادارہ خود بھی نگرانی کرتا ہے۔ اس دوران عالمی ادارے کے کیمرے بھی نصب کیے جاتے ہیں جن کے ذریعے عالمی نگرانی کا عمل جاری رہتا ہے۔

پاکستان نیو کلیئر سوسائٹی کے انتخابات حال ہی میں ہوئے ہیں اور یہ تنظیم کئی سالوں بعد ایک بار پھر فعال ہوئی ہے۔

تنظیم کے صدر ڈاکٹر جاوید خورشید نے کہا اِس کا مینڈیٹ ملک میں نیوکلیئر سائنس کے شعبوں میں تحقیق وترقی، ٹیکنالوجی اور اُس کا پُر امن استعمال عام کرناہے اور اِس کے ساتھ ساتھ عوام کے ذہنوں میں جوہری توانائی اور جوہری بجلی گھروں کے بارے میں پائے جانے والے ابہام کو دور کرنا ہے۔

اسی بارے میں