ڈاکٹر منان بلوچ کی ہلاکت ایک بڑی کامیابی ہے: سرفراز بگٹی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر داخلہ نے بتایا کہ گذشتہ ایک ماہ سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ بلوچستان میں حالات بہت زیادہ خراب ہو رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے ڈاکٹر منان بلوچ کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

کوئٹہ میں دیگر سرکاری حکام کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے مستونگ کے علاقے میں ایک سرچ آپریشن کیا۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے سیکرٹری جنرل سمیت پانچ ہلاک

میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ’اس آپریشن میں ڈاکٹراللہ نظر کے بعد ڈاکٹر منان بلوچ جو کہ کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے کمانڈر تھے اپنے چار ساتھیوں سمیت فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے ہیں۔‘

انھوں نے ڈاکٹر منان بلوچ کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’پہلے ڈاکٹر اللہ نظر اور اب ڈاکٹر منان بلوچ کی ہلاکت کے بعد بی ایل ایف کی قیادت ختم ہوچکی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر منان بلوچ کی ہلا کت کے بعد مستونگ، قلات اور بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں صورتحال میں بہتری آئے گی۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ گذشتہ ایک ماہ سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ بلوچستان میں حالات بہت زیادہ خراب ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران خفیہ معلومات کی بنیاد پر 239 آپریشن کیے گئے جن میں تقریباً 22 دہشت گرد ہلاک ہوئے 14 کے قریب زخمی ہوئے جبکہ کئی گرفتار بھی کیے گئے ہیں۔

ایک سوال پر میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈاکٹر اللہ نظر کے زندہ ہونے کے بارے میں جو ویڈیو آئی تھی اس کے بارے میں انھیں شبہ ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ وہ ’’اس ویڈیو کو ایک مرتبہ پھر چیلنج کرتے ہیں۔ تاریخوں کے ساتھ کوئی ویڈیو بناکر بھیجے تاکہ ہم بھی ثابت کرسکیں کہ وہ زندہ ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارا اب بھی یہ کہنا ہے کہ ڈاکٹر اللہ نظر زندہ نہیں ہیں۔‘

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں دولت اسلامیہ کا کوئی وجود نہیں۔‘

اسی بارے میں