ناقص سکیورٹی پر سینکڑوں تعلیمی اداروں کے خلاف مقدمات

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مذکورہ تعلیم اداروں سے کہا گیا ہے کہ سکولوں کی چار دیواری اونچی کی جائے سیکیورٹی گارڈز تعینات کیے جائیں

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد تعلیمی اداروں کی ناقص سکیورٹی کی صورتحال پر صوبہ بھر میں تقریباً ایک ہزار سے زائد تعلیمی اداروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

سنیچر کے روز سوات کے ایسے کوئی ایک سو تعلیمی اداروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں جن کی سکیورٹی کی صورتحال ناقص تھی، جبکہ گزشتہ روز مردان ڈویژن کے ایک سو اسی سکولوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔

مذکورہ تعلیم اداروں سے کہاگیا ہے کہ سکولوں کی چار دیواری اونچی کی جائے سکیورٹی گارڈز تعینات کیے جائیں ، خار دار تاریں لگائی جائیں ، واک تھرو گیٹس اور کیمرے نصب کیےجائیں۔

دوسری جانب سکولوں کو سرکاری فنڈز کی عدم فراہمی اور مقدمات کے اندراج کے خلاف اساتذہ نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور سکولوں کی سکیورٹی کے حوالے سے متعدد سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ انھیں حکومت کی جانب سے فنڈز فراہم نہیں کیے جا رہے اور وہ اپنی طرف سے سکیورٹی کے لیے اخراجات نہیں کر سکتے۔ حکومت اگر فنڈز فراہم کرے تو یہ تمام سکیورٹی انتظامات مکمل کیے جا سکتے ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ چند ایک تعلیمی اداروں نے طلبا سے سکیورٹی کی مد میں فیس طلب کی ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ خیبر پختونخوا میں اساتذہ کی تنظیم کے صدر ملک خالد نے کہا کہ یہ درست نہیں ہے کہ طلبا سے فیس طلب کی جا رہی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام سرکاری تعلیمی اداروں کی سکیورٹی فراہم کرے اور اس بارے میں تمام انتظامات کرے ہیڈ ماسٹرز اور پرنسپلز کے خلاف مقدمات کا اندراج ناقابل برداشت ہے۔

خیبر پختونخوا میں بیشترنجی تعلیمی اداروں نے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سے سکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے تھے لیکن اخراجات کا تمام بوجھ طلبا پر ڈال کر فیسوں میں کئی گنا اضافہ کر دیاگیا ہے ۔ اس بارے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ان اداروں کو فیس کم کرنے کی ہدایات بھی دیں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ۔

اسی بارے میں