اورنج لائن میٹرو منصوبے کے خلاف لاہور میں احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس سے قبل بدھ 27 جنوری کو سمن آباد کے علاقے میں بھی منصوبے سے متاثر ہونے والے لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالا تھا

لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کے خلاف اتوار کو پیپلزپارٹی نے احتجاجی ریلی نکالی جبکہ مناواں میں متاثرین نے گھنٹوں احتجاج کرتے ہوئے تعمیراتی کام کو روکے رکھا اور توڑ پھوڑ کی۔

لاہور کے علاقے ہربنس پورہ میں رنگ روڈ کے قریب مناواں کے گاؤں کوٹلی گھاسی کے مکینوں نے اپنی اراضی پر میٹروٹرین کے ڈپو کی تعمیر کے خلاف احتجاج کیا اور ڈپو کی تعمیر میں استعمال ہونے والی مشینری پر قبضہ کر لیا۔

مظاہرین پانچ گھنٹوں سے زائد وقت تک ڈپو پر قابض رہے، ان کا موقف تھا کہ ان کی املاک زبردستی اونے پونے لی جا رہی ہیں۔

اورنج لائن میٹرو ٹرین کے خلاف پیپلزپارٹی لاہور کی ریلی جین مندر سے شروع ہوئی، کپورتھلہ ہاؤس اور پرانی انارکلی سے ہوتے ہوئے مال روڈ پر پہنچ کر اس ریلی نے احتجاجی جلسہ کی شکل اختیار کر لی۔

ریلی کے شرکا نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر منصوبے کے خلاف نعرے درج تھے۔ شرکا مطالبہ کر رہے تھے کہ منصوبے کا روٹ تبدیل کیا جائے یا پھر اسے زیرِ زمین کر دیا جائے۔

احتجاجی جلسہ سے خطاب میں پیپلزپارٹی لاہور کی صدر ثمینہ خالد گھرکی نے کہاکہ میٹرو ٹرین جیسے مہنگے ترین منصوبے سے لاہور کی تاریخ و ثقافت کو تباہ کیا جا رہا ہے، غریب لوگوں سے ان کے سر کی چھت اور روزگار تک چھینا جا رہا ہے جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اسی بارے میں