پنجاب میں کل سے نجی سکول کھولنے کا مشروط اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ مذاکرات کام یاب رہے اور سکیورٹی تحفظات پر بند کیے گئے تمام اسکول کھولنے اور ایف آئی آر واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا

پنجاب میں پرائیویٹ سکولز مالکان کی دونوں تنظیمیں حکومت سے کام یاب مذاکرات کے بعد مشروط طور پر سوموار سے اپنے سکول کھولنے پر رضامند ہوگئیں۔

حکومت نے موسم کی شدت اور سکیورٹی انتظامات کے لیے 19 جنوری سے اچانک پنجاب بھر کے سکولوں ایک ہفتے کے لیے بند کردیا تھا اس دوران سکیورٹی کے مناسب انتظامات نہ کرنے والے کئی کالجز اور یونیورسٹیز کو بھی بند کردیا گیا تھا جبکہ سینکڑوں سکولوں کو سیل کرکے مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں۔

ناقص سکیورٹی پر سینکڑوں تعلیمی اداروں کے خلاف مقدمات

حکومت نےچھٹیوں کے دوران تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے اور پیر سے سکول کھولنے کے احکامات جاری کیے تاہم آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن اور آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے تعلیمی ادارے کھولنے کے لیے ایف آئی آر واپس لینے، سیل سکول واگزار کرنے اور سکیورٹی کے لیے حکومتی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے اسکول کھولنے سے انکار کردیا۔

نجی اسکول مالکان کوتعلیمی ادارے کھولنے پر آمادہ کرنے کے لیے لاہور میں مذاکرات کیے گئے جس میں وزیرتعلیم رانا مشہود احمد خان، ڈی سی او لاہور محمد عثمان، لاہور کے پولیس چیف امین وینس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ جبکہ آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کےمرکزی صدر ادیب جاودانی اور آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے مرکزی صدر کاشف مرزا نے نجی اسکولوں کے مالکان کی نمائندگی کی۔

Image caption آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کےمرکزی صدر ادیب جاودانی نے کہا کہ حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کو سرکاری سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے جس کے بعد وہ کل سے سکول کھول دیں گے

مذاکرات کے بعد جاری کیے گئے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ مذاکرات کام یاب رہے اور سکیورٹی تحفظات پر بند کیے گئے تمام اسکول کھولنے اور ایف آئی آر واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

تاہم اپنی گفتگو میں پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے مرکزی صدر کاشف مرزا نے واضح کیا کہ جب تک حکومت مذاکرات میں ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں کرتی سکول نہیں کھولے جائیں گے۔

انھوں نے کہاکہ پنجاب میں تقریباً تین سکول مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جن کے عملی طور پر واپس لیے جانے تک اسکول نہیں کھولے جاسکتے۔

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کےمرکزی صدر ادیب جاودانی نے کہا کہ حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کو سرکاری سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے جس کے بعد وہ کل سے سکول کھول دیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں سکیورٹی تحفظات پر 50 سکول سیل کیے گئے جن میں 30 لاہور کے سکول شامل ہیں تاہم حکومت نے ان سکولوں کو بھی کل سے کھولنے کی حامی بھرلی ہے۔

اسی بارے میں