ضمانتوں کے نوٹس منسوخ، تحقیقات جاری

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین اور دیگر پانچ افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں تمام افراد کی ضمانتوں کے نوٹس منسوخ کر دیےگئے ہیں لیکن اس کیس میں انھیں الزامات سے بری نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

لندن میں سوموار کی شام میٹرپولیٹن پولیس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک مختصر تحریری بیان میں کہا گیا کہ اس کیس میں ملوث چھ افراد کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ ان کی ضمانتوں کے نوٹس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

لندن میں ایم کیو ایم کی طرف سے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ پولیس نے الطاف حسین، محمد انور اور طارق میر کو مطلع کر دیا ہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں جاری تحقیقات میں ان کی ضمانت کے نوٹس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ بیان میں باقی تین افراد کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ وہ کون ہیں۔

ایم کیو ایم کے بیان میں یہ دعوی کیا گیا کہ ان تینوں کے خلاف ناکافی ثبوت ہونے کی وجہ سے فرد جرم عائد نہیں کی جا رہی۔

ایم کیو ایم کے بیان میں مزید کہا گیا کہ الطاف حسین نے ضمانت کے نوٹس منسوخ کیے جانے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

لیکن لندن پولیس نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چھ افراد کی ضمانت سے رہائی کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے خلاف مزید کارروائی نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اس کیس کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہو گا کہ انھیں پولیس کی طرف سے دی گئی تاریخوں پر پولیس کے تفتیشی عملے کے سامنے پیش نہیں ہونا پڑے گا۔

پولیس کے بیان میں چھ افراد کے نام نہیں دیے گئے بالکہ ان افراد کی عمروں اور ان کی گرفتاری کی تاریخیں دی گئی ہیں۔

ان لوگوں میں ایک اکسٹھ سالہ شخص کا ذکر ہے جس کو تین جون دو ہزار چودہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس فہرست میں ایک 73 سالہ، 45 سالہ، 41 سالہ ، 27 سالہ اور 65 سالہ اشخاص شامل ہیں۔

پولیس نے مزید کہا ہے کہ تحقیقات کے مکمل ہونے کی تاریخ کا تعین کرنا ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس بڑی جاں فشانی سے مکمل تحقیقات کرے گی اور اس کیس سے متعلق تمام شواہد کا جائزہ لے گی۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اس کیس میں پڑی گئی نقد رقم کرائم ایکٹ سنہ 2002 کے تحت پولیس کی تحویل میں ہی رہے گا جب تک یہ انکوائری مکمل نہیں کر لی جاتی۔

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں لندن میٹروپولیٹن پولیس کے انسداد دہشت گردی کے یونٹ نے الطاف حسین کے دفتر پر پہلا چھاپہ چھ دسمبر سنہ 2012 کو پولیس اینڈ کرمنل ایویڈنس ایکٹ کے تحت مارا تھا۔

اس چھاپے کے دوران دفتر سے نقد رقم برآمد ہوئی تھی۔ پولیس نے یہ رقم ’پروسیڈ آف کرائم ایکٹ‘ کے تحت قبضے میں لی تھی۔

پولیس نے اٹھارہ جون 2013 کو شمالی لندن کے دو گھروں پر چھاپہ مارا۔ یہ چھاپہ پولیس اینڈ کرمنل ایکٹ کی دفعہ آٹھ کے تحت مار اور اس میں بھی پولیس نے ’قابل ذکر‘ مقدار میں رقم قبضے میں لی تھی۔

اسی بارے میں