اقتصادی راہداری کےروٹ پر پانچ مدارس بند

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ایک اندازے کے مطابق 20 سے 25 ہزار کے دینی مدارس ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں مقامی انتظامیہ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے روٹ پر زیرتعمیر اور غیر اندراج شدہ پانچ دینی مدرسوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مانسہرہ کے ضلعی پولیس سربراہ احسان سیف اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی انتظامیہ کی طرف سے مدرسوں کے منتظمین کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں کہ وہ تین دن کے اندر اندر مدرسوں کی عمارتیں گرا دیں بصورت دیگر انتظامیہ خود کارروائی کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت چین پاکستان راہداری منصوبے کے روٹ پر نئے مدرسوں کی تعمیر پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام غیر اندراج شدہ مدرسے مانسہرہ کے شہر کی حدود میں واقع ہیں۔

پولیس سربراہ کے مطابق ضلع مانسہرہ میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے اعلان سے قبل تقریباً 70 کے قریب مدرسے پہلے سے قائم تھے تاہم ان مدرسوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی بلکہ ان دینی مدارس کو بند کیا جارہا ہے جو غیر رجسٹرڈ ہیں یا حکومت کی منظوری کے بغیر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ضلع کی حدود میں حکومت کی منظوری کے بغیر درجنوں مدرسے قائم کیے جا چکے ہیں تاہم قومی ایکشن پلان کے تحت اب کوئی مدرسہ حکومت کی منظوری کے بغیر تعمیر نہیں ہوگا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ایک اندازے کے مطابق 20 سے 25 ہزار کے دینی مدارس ہیں لیکن آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد 20 نکاتی قومی ایکشن پلان کے تحت کئی غیر رجسٹرڈ دینی مدرسوں کو بند کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں