’سیاست ہو رہی ہے، ہڑتالی ملازمین کو خمیازہ بھگتنا ہو گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وفاقی حکومت نے پی آئی اے پر لازمی سروس ایکٹ سنہ 1952 نافذ کردیا ہے جس کے تحت ملازمین ہڑتال نہیں کر سکتے

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے ہڑتال پر جانے والے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ہڑتالی ملازمین کو اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

منگل کو پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال کے دوران جھڑپوں کے بعد وزیراعظم نے کہا کہ پی آئی اے میں لازمی سروس ایکٹ نافذ ہے اور ایسے میں ہڑتال کرنے والے ملازمین کو نوکری سے فارغ کیا جا سکتا ہے اور انھیں سزا بھی ہو سکتی ہے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ پی آئی اے میں سیاست ہو رہی ہے اور ہڑتالی ملازمین کو سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

ہڑتالی ملازمین پر لاٹھی چارج، تصاویر

یاد رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف پی آئی اے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہڑتال کی کال پر پی آئی اے کے ملازمین نے فضائی آپریشنز بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

نجکاری کے خلاف ملازمین کی ہڑتال اور مظاہروں کے دوارن سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں دو ملازمین ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعدکراچی اور لاہور کے ایئر پورٹ پر فلائٹ آپریشن مکمل طور پر بند ہے جبکہ ملتان، پشاور اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں پر بھی کام متاثر ہوا ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی کا کہنا ہے کہ ’ملازمین کی ہلاکت کے بعد صورتحال بہت نازک ہو گئی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ پی آئی اے کے نجکاری پر بات کرنے کے لیے ملازمین کی یونین کے نمائندوں کو کئی بار مدعو کیا ہے لیکن وہ انتظامیہ سے بات کرنے کو تیار ہی نہیں تھے۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پی آئی اے کا یومیہ خسارہ 10 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے اور پی آئی اے کو اسی حالت پر چھوڑا نہیں جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی آئی اے میں سفر کرنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ جہازوں کی حالت خراب ہے اور سروسز غیر معیاری ہیں: نواز شریف

انھوں نے کہا کہ ’کیا پی آئی اے کو ایسے ہی چلنے دیا جائے یا بہتر کیا جائے؟‘

وزیراعظم نواز شریف بنے کہا کہ ’پی آئی اے میں سفر کرنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ جہازوں کی حالت خراب ہے اور سروسز غیر معیاری ہیں ان سب کو صرفِ نطر نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ لازمی سروس ایکٹ نافذ ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی ہو گی اور ڈیوٹی پر آنے والوں کو انعام دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے پی آئی اے پر لازمی سروس ایکٹ سنہ 1952 نافذ کردیا ہے جس کے تحت پی آئی اے میں کام کرنے والے ملازمین کسی طور پر بھی ہڑتال نہیں کرسکیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف خورشید نے لازمی سروس کے قانون کو آمرانہ قرار دیا لیکن پیپلز پارٹی کی اپنے دورےِ حکومت میں دو مرتبہ لازمی سروس کا قانون نافذ کر چکی ہے۔

پاکستان میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف ہے اور پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان تحریک انصاف نے پی آئی اے کی نجکاری اور ملازمین کے خلاف ایکشن کی سخت مذمت کی ہے۔

یاد رہے کہ پی آئی اے کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت کو مطالبات کے حل کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی، جس عرصے میں حکومت نے سٹریٹیجک پارٹنرشپ کا فیصلہ چھ ماہ کے لیے موخر کر دیا جبکہ نجکاری کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، جس کے خلاف ملک بھر میں پی آئی اے کے دفاتر میں احتجاج جاری رہا۔

Image caption ڈنڈوں سے لیس رینجرز نے مظاہرین کو آگے نہ بڑھنے کی تنبیہ کی تاہم مظاہرین حصار توڑ کر آگے بڑھ گئے

وزیرِ اعلیٰ سندھ کی کوششیں

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ پی آئی اے کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔

وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ سے پی آئی اے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے وفد نے سہیل بلوچ کی قیادت میں منگل کی شب وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کی۔ اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مقتول ملازمین کی لاشیں لیکر سڑکوں پر آنا مناسب نہیں ہوگا۔

وزیر اعلی نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وہ وزیر اعظم سے بات کریں گے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین سہیل بلوچ نے وزیر اعلی کو بتایا کہ ان کے تین ساتھیوں ہدایت اللہ خان، فاروق اور ڈاکٹر عمران کو حراست میں لیا گیا ہے۔

سید قائم علی شاہ نے پی آئی اے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے حوالے سے رونما ہونے والے واقعہ کے بارے میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ انھوں نے خواجہ سعد رفیق کو پی آئی اے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے ہونے والی ملاقات اور اس کے مطالبات سے آگاہ کیا۔ خواجہ سعد رفیق نے انھیں یقین دہانی کرائی کہ وہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات وزیرِ اعظم تک پہنچائیں گے۔

وزیرِ اعلیٰ نے احتجاج کے دوران فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دو افراد کے لیے فی کس 20 ,20 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے فی کس دو لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا۔

اسی بارے میں