’بلوچستان کو وسط ایشیائی ریاستوں سے بھی ملایا جائےگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption تربت ہوشاپ شاہراہ کے افتتاح کے بعد وزیراعظم میاں نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس منصوبہ کا بذریعہ گاڑی معائنہ بھی کیا

پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلوچستان کی ترقی میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں اور حکومت کی مدد کر نے کے لیے فوج نے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے بلوچستان کے مکران ڈویژن میں گوادر ہوشاب تربت شاہراہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جس شاہراہ کا افتتاح کیا گیا اس کی لمبائی 193 کلومیٹر ہے جس پر 19 ارب روپے کا خرچہ آیا ہے۔

اس شاہراہ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیےگئے تھے۔

اس منصوبے پر کام کا آغاز سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ ) پرویز مشرف کے دور میں ہوا تھا ۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ فوج کے سربراہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنھوں نے اس منصوبے کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’پہلی مرتبہ یہاں سڑکوں کا جال بچھایا جا رہاہے۔ اس سے قبل کسی نے اتنے بڑے منصوبے کا سوچا نہیں ہوگا لیکن آج بڑے منصوبوں پرعملدرآمد بھی ہو رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہاں صرف سڑکیں نہیں بچھائی جارہی ہیں بلکہ بلوچستان کو وسط ایشیائی ریاستوں سے بھی ملایا جائےگا۔

انھوں نے بتایا کہ وسط ایشیا کے ممالک کے رہنماؤں سے ان کی بات ہوئی ہے اور وہ گوادر کے راستے تجارت کے خواہشمند ہیں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کا مستقبل اسی خطے سے وابستہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ صرف نعروں سے کام نہیں چلتا بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات اور وژن کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستان 2018 تک اپنی بجلی کی کمی پوری کرلے گا۔

تربت ہوشاپ شاہراہ کے افتتاح کے بعد وزیراعظم میاں نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس منصوبہ کا بذریعہ گاڑی معائنہ بھی کیا ۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے خود گاڑی چلائی جبکہ وزیراعظم میاں نوازشریف ان کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔

اسی بارے میں