’پی آئی کمپنی بل سینیٹ سے مسترد ہوا تو مشترکہ اجلاس‘

نجکاری کے وزیر مملکت محمد زبیر نے کہا ہے کہ قومی ایئر لائن کو کمپنی بنانے کے بل کو اگر سینیٹ مسترد کر دیتی ہے تو حکومت پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا سوچے گی۔

انھوں نے یہ بات بدھ کو پی آئی اے کے ملازمین کے احتجاج کے باعث پی آیی اے کے آپریشنز معطل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ سینیٹ نے پی آئی اے کو کمپنی بنانے کے آرڈیننس مسترد کیا تھا کہ جس کے بعد قومی اسمبلی نے اس بل کو منظور کیا۔

ٹیکس ایمنسٹی، پی آیی اے کو کمپنی بنانے کے بل منظوردعوؤں کے برعکس پی آئی اےئ سٹیل ملز کی نجکاری کا فیصلہپی آیی اے کی نجکاری کا کوئی ارداہ نہیں: اسحاق ڈار

’سینیٹ نے 90 روز میں اس بل پر فیصلہ کرنا ہے۔ اگر سینیٹ اس بل کو مسترد کرتی ہے تو حکومت پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا سوچے گی۔‘

یاد رہے کہ 21 جنوری کو قومی اسمبلی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو بھی کارپوریشن سے کمپنی بنانے کے بل کی منظوری دی جس پر حزب مخالف کی جماعتوں نے بھرپور احتجاج کیا۔

پی آئی اے کے بارے میں کہا گیا کہ حکومت اس نقصان میں چلنے والے اہم قومی ادارے کے 26 فیصد حصص کو اصلاحاتی عمل سے گزرنے کے بعد نجی شعبے کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔

نجکاری کے وزیر مملکت محمد زبیر نے پی آئی اے کے ملازمین کے احتجاج کے باعث فلائیٹ آپریشنز معطل ہونے پر کہا ہے کہ حکومت ملازمین سے بات کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ’کچھ اچھا ہی ہو گا‘۔

انھوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں سب سے اہم بات ملازمین کی بہتری ہے۔ ’جو لوگ ملازمین کی نمائندگی کر رہے ہیں ان سے استدعا ہے کہ بیٹھ کر سن تو لیں کہ منصوبہ کیا ہے۔ اگر اس کے بعد بھی یہ منصوبہ پسند نہ آئے توپھر احتجاج کرنا آپ کا حق بنتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دیتی ہے کہ نجکاری کے عمل کا حصہ بنیں اور شفافیت کو یقینی بنائیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آج کہتی ہے کہ نجکاری نہیں ہونے دیں گے۔ ’بینظیر بھٹو کی 1993 سے 1996 کی حکومت میں وزیر برائے نجکاری نوید قمر نے 27 اداروں کی نجکاری کی۔ 2008 میں بھی پی پی پی کی حکومت نے اداروں کی نجکاری کی کوشش کی لیکن نہیں ہو سکی۔ تو آپ کب سے نجکاری کے خلاف ہو گئے۔‘

ممبر قومی اسمبلی دانیال عزیز نے کہا کہ ایسے ادارے جو منافعے میں نہیں ہیں ان کی وجہ سے ملک کو 600 ارب سالانہ کا خسارہ ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں