پی آئی اے ملازمین کے احتجاج میں شدت، فلائٹ آپریشنز معطل

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کے منصوبے کے خلاف ادارے کے ملازمین کی جانب سے ہڑتال اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے بدھ کو بھی ملک بھر میں فضائی آپریشنز بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

کمپنی کے ترجمان دانیال گیلانی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے بدھ کو ملک کے کسی بھی ایئرپورٹ سے پی آئی اے کی کوئی پرواز روانہ نہیں ہو سکی ہے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کو پی آئی اے کے فضائی آپریشن مکمل طور پر معطل ہونے کے علاوہ ٹکٹنگ، کوریئر اور کارگو کے دفاتر بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فضائی آپریشنز بند ہونے کی وجہ سے ہوائی اڈے پر طیارے کھڑے کرنے کی جگہ بھی باقی نہیں رہی ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کو بھی پی آئی اے کا فضائی آپریشن معطل ہے اور گذشتہ شب پائلٹس کی تنظیم پالپا نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ان کے مطابق بدھ کو ملازمین پی آئی اے کے مرکزی دفتر کے باہر جمع ہوئے جہاں گزشتہ ایک ہفتے سے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

منگل کے برعکس بدھ کو ملازمین نے اپنا احتجاج مرکزی دفتر تک محدود رکھا ہے تاہم رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری آج بھی واٹر کینن کے ہمراہ موجود ہے۔

سندھ اسمبلی میں صوبے کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے پی آئی اے کے ملازمین پر تشدد کے خلاف قرار داد مذمت بھی پیش کی گئی ہے جبکہ سندھ اسمبلی کے اراکین بھی ملازمین سے اظہار یکجہتی کے لیے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے۔

پی آئی اے کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے ہلاک شدہ ساتھیوں کی لاشوں سمیت دھرنا دینے کا اعلان بھی کیا تھا تاہم وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے جوائنٹ ایکشن کمٹی کے سربراہ سہیل بلوچ کی سربراہی میں ملاقات کرنے والے وفد سے درخواست کی تھی کہ یہ قدم نہ اٹھایا جائے اور وہ وزیر اعظم سے بات کریں گے۔

مظاہرین کی آمد کے خدشے کے پیشِ نظر کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی کے انتظامات کو بھی مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

پی آئی اے کے آپریشنز کی بندش کی وجہ سے مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نجی فضائی کمپنیوں نے اس موقع پر اپنے کرایوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی آئی اے کے دو ملازمین کی ہلاکت کے بعد احتجاج میں شدت اور اس کا دائرہ کراچی کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں تک بھی پھیل گیا

پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق مسافروں کی تکالیف کے ازالے کے لیے ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کرتے ہوئےنجی ایئر لائن ایئر بلیو کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے اضافی پروازیں شروع کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

منگل کو بھیکراچی اور لاہور کے ایئر پورٹ پر فلائٹ آپریشن مکمل طور پر بند رہا تھا جبکہ ملتان، پشاور اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں پر بھی کام متاثر ہوا تھا۔

چیئرمین کا استعفیٰ

چیئرمین پی آئی اے ناصر جعفر نے منگل کی شب ایک ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

انھوں نے منگل کو ہونے والے پرتشدد واقعات اور ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ وہ اب مزید اس ادارے میں کام کریں۔

ناصر جعفر کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم نواز شریف کو بھجوا دیا ہے تاہم وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے استعفی وصول ہونے یا اس کی منظوری کے بارے میں تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

چیئرمین پی آئی اے کی جانب سے مستعفی ہونے کا فیصلہ منگل کو کراچی میںپی آئی اے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہڑتال کی کال کے دوران مظاہرہ کرنے والے ملازمین پر فائرنگ سے دو افراد کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وفاقی حکومت نے پی آئی اے پر لازمی سروس ایکٹ سنہ 1952 نافذ کردیا ہے جس کے تحت ملازمین ہڑتال نہیں کر سکتے

یہ افرادمظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپ کے دوران گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے تاہم رینجرز اور پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے کوئی فائرنگ نہیں کی گئی۔

ان جھڑپوں میں 18 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ پی آئی اے کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت کو مطالبات کے حل کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی، جس عرصے میں حکومت نے سٹریٹیجک پارٹنرشپ کا فیصلہ چھ ماہ کے لیے موخر کر دیا جبکہ نجکاری کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، جس کے خلاف ملک بھر میں پی آئی اے کے دفاتر میں احتجاج جاری ہے۔

اسی بارے میں