’داؤد ابراہیم پاکستان میں موجود نہیں ہیں‘

Image caption داؤد ابراہیم پاکستان میں نہیں رہتے اور نہ ہی ان کی یہاں پر کوئی جائیداد یا مکان ہے:ترجمان دفترِ خارجہ

پاکستانی حکومت نے کہا ہے کہ بھارت کو انتہائی مطلوب جرائم پیشہ شخص داؤد ابراہیم پاکستان میں موجود نہیں ہیں اور حکومت کو اُن کے بارے میں کسی قسم کی کوئی معلومات نہیں ہیں۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ بھارتی شہری داؤد ابراہیم پاکستان میں نہیں رہتے اور نہ ہی ان کی یہاں پر کوئی جائیداد یا مکان ہے۔

ترجمان نے کہا کہ داؤد ابراہیم کے بارے میں خود بھارتی حکومت وزارتی سطح پر بھی یہ بات تسلیم کرچکی ہے کہ وہ داؤد ابراہیم کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔

یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے کہا تھا کہ داؤد ابراہیم کو واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی چاہے اس کے لیے پاکستانی حکومت پر دباؤ ہی کیوں نہ ڈالنا پڑے۔

اس سے قبل بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کہہ چکے ہیں کہ داؤد ابراہیم سے متعلق تمام تفصیلات پاکستانی حکام کو فراہم کردی گئی ہیں۔

داؤد ابراہیم سنہ 1993 میں بابری مسجد انہدام کے بعد بھارت کے شہر ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں بھارتی حکومت کو مطلوب ہیں اور ان کے خلاف بھارتی حکومت نے بین الاقوامی وارنٹ جاری کر رکھا ہے۔ پہلی بار یہ وارنٹ سنہ 2003 میں جاری کیا گيا تھا۔

واضح رہے کہ برطانوی حکام نے بھارت کے مطلوب ترین انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم پر مالی پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

داؤد کا نام برطانوی وزارت مالیات کی ان افراد اور اہداف کی جامع اور تازہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن پر مالی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

Image caption بھارتی حکومت نے دؤاد ابراہیم کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ جاری کر رکھا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان اچھے اور برے دہشت گردی میں تمیز نہیں کرتا اور ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں جس کو دنیا بھر نے تسلیم کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان شدت پسندی کے لیےایک دوسرے کی سرزمین استعمال نہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے حملے میں ملوث سہولت کاروں کے بارے میں افغان حکومت کی طرف سے کسی بھی کارروائی کے بارے میں اُنھیں علم نہیں ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی اداروں کی پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے ثبوت امریکہ اور دیگر ممالک کو فراہم کردیے گئے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے سیکرٹری خارجہ کے درمیان ملاقات کے بارے میں قاضی خلیل اللہ کا کہنا تھا کہ اس بارے میں دونوں مالک ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

اسی بارے میں