فوجیوں کی تلاش: پاکستان کی مدد کی پیشکش، بھارت کا انکار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سیاچن کو دنا کا بلند ترین جنگی محاذ کہا جاتا ہے

بھارت نے سیاچن میں برفانی تودے تلے دبنے والے اپنے دس فوجیوں کی تلاش کے لیے پاکستانی مدد کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

پاکستان اور بھارت کا برفانی محاذ

جمعرات کی شام پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس آپریشنز، ڈی جی ایم او نے بھارتی ہم منصب کو فون کیا اور انھیں بھارتی فوجیوں کو بچانے میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے جو شمالی علاقوں میں برفانی تودے تلے دب گئے ہیں۔‘

تاہم بعد ازاں بھارتی میڈیا میں یہ خبر جاری ہوئی کہ بھارت کے ڈی جی ایم او نے پاکستان کی مدد لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ ان کے پاس تمام ضروری وسائل موجود ہیں۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارت کے ڈی جی ایم او لیفٹینٹ جنرل رنبیر سنگھ کو ان کے پاکستانی ہم منصب میجر جنرل عامر ریاض نے سیاچن میں بھارتی چیک پوسٹ پر برفانی تودہ ملنے کے 30 گھنٹے بعد ٹیلی فون کیا اور مدد کی پیشکش کی۔

خیال رہے کہ بدھ کی صبح لداخ میں سیاچن گلیشیئر پر موجود بھارتی چوکی پر برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں 10 بھارتی فوجی لاپتہ ہو گئے ہیں۔

بھارتی فوج کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اب کسی بھی لاپتہ فوجی کے زندہ بچ جانے کا کم ہی امکان ہے۔

فوجیوں کی تلاش کے لیے جاری ریسکیو آپریشن میں جدیدآلات کا استعمال کیا جا رہا ہے اور بھارتی فضائیہ کے اہلکار بھی فوج کا ساتھ دے رہے ہیں۔

سیاچن کے محاذ کو دنیا کا بلند ترین میدان جنگ کہا جاتا ہے جس پر پاکستان اور بھارت کی افواج گشت کرتی ہیں۔ خطے کی خودمختاری پر دونوں ممالک کے درمیان تنازعات ہیں۔

گذشتہ ماہ اسی خطے میں برفانی تودے گرنے کے بعد چار بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Col NARENDRA KUMAR
Image caption سیاچن میں سنہ 2012 میں برفانی تودے تلے دب کر پاکستان کے 128 فوجی ہلاک ہوئے تھے

بھارتی بیس سطح سمندر سے 19600 فٹ بلندی پر واقع ہے۔

این ڈی ٹی وی نے گذشتہ روز ایک سینیئر افسر کے حوالے سے بتایا تھا کہ ’دس سپاہیوں سمیت ایک جونیئر کمیشنڈ افسر لاپتہ ہیں۔‘

ہندوستان ٹائمز کے مطابق سیاچن گلیشیئر کے جنوبی حصے میں لاپتہ ہونے والے سپاہیوں کا تعلق مدراس بٹالین سے تھا۔

سیاچن میں برفانی تودوں کے حادثے عام بات ہے۔ تاہم اس کے علاوہ یہاں تعینات فوجی باہمی جنگ کے بجائے لینڈ سلائیڈنگ، اعضا کے گلنے، دل کے بند ہونے سے ہلاک ہوئے۔

خیال رہے کہ سنہ 2012 میں برفانی تودے تلے دب کر 139 پاکستانیوں کی ہلاکت ہوئی تھی جن میں 11 شہری اور 128 فوجی شامل تھے۔

دونوں ممالک کی جانب سے اس محاذ سے فوجیں واپس بلانے کی متعدد کوششیں اب تک بے نتیجہ ہی رہی ہیں۔

اسی بارے میں