’چوکیداروں کا سکولوں میں 24 گھنٹے مسلح ڈیوٹی سے انکار‘

Image caption چوکیداروں کو پولیس کی جانب سے اسلحہ چلانے کی تین روزہ تربیت دی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی چوبیس گھنٹے ڈیوٹیاں دینے کا حکم نامہ بھی تھما دیاگیا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے ضلع بونیر کے سکولوں میں تعینات چوکیداروں نے 24 گھنٹے مسلح ڈیوٹی کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

ان چوکیداروں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ ، پولیس اور محکمۂ تعلیم کی جانب سے ڈیوٹی سے متعلق نئے احکامات سراسر ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔

نان سیر کے پرائمری سکول کے چوکیدار ظاہرشاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر چہ چوکیداروں کو پولیس کی جانب سے اسلحہ چلانے کی تین روزہ تربیت دی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی 24 گھنٹے ڈیوٹی دینے کا حکم نامہ بھی تھما دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق سکولوں کے سکیورٹی کے منصوبے میں سب سے زیادہ بوجھ چوکیداروں پر ہی ڈال دیا گیا ہے۔

چوکیدار مطالبہ کررہے ہیں کہ سکولوں میں مزید چوکیداروں کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ رات کو ڈیوٹی دینے والے چوکیداروں کے ہمراہ پولیس کی ڈیوٹی بھی لگائی جائے۔

Image caption اساتذہ کا کام بچوں کو پڑھانا ہے نہ کہ سارا دن دیواروں اور سکول کے گیٹ کی طرف دیکھنا کہ کس جانب سے دہشت گرد حملہ کریں گے

بونیر میں نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد 1100 کے قریب بتائی جاتی ہے جن میں عبدالولی خان یونیورسٹی کا کیمپس بھی شامل ہے اور ان اداروں میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ کے قریب طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں۔

اس حوالے سے بونیر کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر حنیف الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ اس وقت سکیورٹی کے حوالے سے ایمرجنسی کی صورتحال ہے اس لیے چوکیداروں کو فرائض سر انجام دینے کو کہا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ضلع بونیر میں پولیس اہلکاروں کی تعداد 2500 کے قریب ہے اور بونیر کے ڈپٹی سپرٹنڈنٹ آف پولیس فرمان اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس امن و امان قائم رکھنے اور دہشت گردوں کا راستہ روکنے کے لیے پرعزم ہے تاہم ہر سکول کو سکیورٹی نہیں دی جا سکتی۔

Image caption صوبے خيبر پختونخوا میں شدت پسند سکول اور کالجز کو نشانہ بناتے رہے جس کی وجہ سے سکیورٹی بڑھانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ موبائل پیٹرولنگ اور رپیڈ سکواڈ کے ذریعے بھی سکیورٹی فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

جوڑ میں موجود ایک پرائیویٹ سکول کے پرنسپل محمد خالق نے بی بی سی کو بتایا کہ تعلیمی اداروں پر حملوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں اور مضبوط سکیورٹی انتظامات اب وقت کا تقاضا ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اساتذہ کا کام بچوں کو پڑھانا ہے نہ کہ سارا دن دیواروں اور سکول کے گیٹ کی طرف دیکھنا کہ کس جانب سے دہشت گرد حملہ کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں