’پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن جزوی بحال، دوپروازیں جدہ روانہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی آئی اے ملازمین کا احتجاج 20 جنوری کو قومی اسمبلی میں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بل آنے پر شروع ہوا تھا

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کا کہنا ہے کہ نجکاری کے خلاف ملازمین کی ہڑتال کے باعث کئی دونوں معطل فلائٹ آپریشن اب جزوی طور پر دوبارہ بحال ہو رہا ہے اور پی آئی اے کا عملہ دو جہاز لے کرجدہ روانہ ہوا ہے۔

سنیچر کی رات دیر گئے پی آئی اے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانے والے پاکستانی زائرین کو ملک واپس لانے کے لیے پی آئی اے کے دو بوئینگ 777 جہاز جدہ روانہ ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 800 زائرین دوپہر تک واپس پاکستان آ جائیں گے جبکہ سعودی ایئر لائن کی مدد سے بھی مزید 400 زائرین کی واپسی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی نجکاری کے خلاف ملازمین دو فروری سے ہڑتال پر ہیں اورپی آئی اے کا فلائٹ آپریشن مکمل طور پر بند پڑا ہے۔

پی ائی اے کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ جدہ روانہ کی جانے والی پروازوں کو پی آئی اے کے عملے کی مدد سے چلایا گیا ہے جبکہ اسلام آباد اور کراچی سے جدہ جانے والی پرواز اپنے شیڈول وقت کے مطابق جدہ پہنچیں گی۔

پی آئی اے کی انتظامیہ نے ملازمین سے درخواست کی ہے کہ وہ ڈیوٹیز پر واپس آئیں اور اپنی ایئر لائن کو ان مشکل حالات سے نکالیں۔

حکومت نے پی آئی اے میں لازمی سروس ایکٹ نافذ کر رکھا ہے اور وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہہڑتال پر جانے والے ملازمین کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

دوسری جانب پی آئی اے کے پائلٹس کی ایسوسی ایشن پالپا کے صدر عامر ہاشمی نے ہڑتال ختم کر کے فلائٹ آپریشن بحال کرنے کی حمایت کی ہے۔عامر ہاشمی کے دعوٰی کے مطابق 432 میں سے زیادہ تر پائلٹس پروازیں شروع کرنے کے حق میں ہیں۔

Image caption سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے آنسو گیس پھینکی اور فائرنگ سے دو ملازمین ہلاک ہوئے

نجکاری کمیشن کے چیرمین محمد زبیر پی اور پی آئی اے کے ہڑتالی ملازمین اور یونین سے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری مختصر اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے میں پی ائی اے کے عملے کو خدمات کو سہراتی ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف ملازمین کی ہڑتال کے پہلے دن کراچی کے قائداعظم انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے باہر شدید احتجاج ہوا تھا۔سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے آنسو گیس پھینکی اور فائرنگ سے دو ملازم ہلاک ہوئے۔

پی آئی اے ملازمین کا احتجاج 20 جنوری کو قومی اسمبلی میں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بل آنے پر شروع ہوا تھا۔

ادارے کے ترجمان دانیال گیلانی نے کہا تھا کہ’11 دنوں میں پی آئی اے کو 2 ارب سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔‘

اسی بارے میں