’حکومت پی آئی اے ملازمین کو بتائے کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی آئی اے ملازمین کا احتجاج 20 جنوری کو قومی اسمبلی میں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بل آنے پر شروع ہوا تھا

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے ملازمین کی ہڑتال سنیچر کو پانچویں روز بھی جاری ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے احتجاجی ملازمین سے فوری طور پر مذاکرات شروع کرے۔

کراچی میں احتجاج کرنے والے ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، اور ان ان پر گولی چلے تو سارے پاکستانیوں کو اس ظلم کے خلاف اٹھ کر کرے ہونا چاہیے۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے پاس یہ تجویز تیار کی تھی کہ نج کاری کے بغیر پی آئی اے کو ٹھیک کیسے کیا جا سکتا ہے تاہم حکومت نے اسمبلی میں سیاسی جماعتوں سے پوچھا ہی نہیں۔

انھوں نے وزیراعظم نوازشریف کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ ’فوری طور پر ان سے بات چیت کریں، ہمیں بتائیں کہ کیوں پرائیویٹائزیشن چاہیے، مزدوروں کو بتائیں کہ نج کاری ہوگی تو ان کا مستقبل کیا ہوگا اور عوام کو بتائیں کہ ان کو کیا فائدہ ہوگا۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ بات چیت کرے کیونکہ گولیوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ چار لاپتہ ملازمین کی بازیابی کے لیے اقدامات کرے اور جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کروایں کہ پی آئی اے کے ملازمین پر گولی کیوں چلی۔

دوسری جانب پی آئی اے کی پائلٹس ایسوسی ایشن پالپا کے صدر عامر ہاشمی نے ہڑتال ختم کر کے فلائٹ آپریشن بحال کرنے کی حمایت کی ہے۔ جس کے بعد پالپا بظاہر دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔

عامر ہاشمی کے دعوٰی کے مطابق 432 میں سے زیادہ تر پائلٹس پروازیں شروع کرنے کے حق میں ہیں۔

ادھر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ترجمان نصراللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پالپا کے صدر عامر ہاشمی واحد شخص ہیں جو ہڑتال ختم کرنے کا سوچ رہے ہیں جبکہ پالپا کے دیگر کئی عہدیدار ہمارے ساتھ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ پالپا کے اندرونی اختلافات پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

نصراللہ نے بتایا کہ گذشتہ رات وزیرِ مملکت محمد زبیر سے ان کے مذاکرات ہوئے جس میں فریقین نے ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کی رائے میں یہ مذاکرات مثبت سمت کی جانب تھے اسی لیے آج دوبارہ مذاکرات کیے جائیں گے۔

ادھر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب پی آئی اے کے احتجاج کے دوران ہلانے والے افراد کے قتل کی ایف آئی آر متعلقہ تھانے درج کرنے کے لیے جو درخواست دی گئی تھی اس پر آج ایف آئی آر درج کر کے نمبر دے دیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا تاہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنی درخواست میں سینیٹر مشاہد اللہ ، محمد زبیر، پرویز رشید اور مشیرِ ہوا بازی شجاعت عظیم پر ذمہ داری عائد کی تھی۔

واضح رہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ نے دعویٰ کیا تھا کہ ملازمین رینجرز کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

اس سے پہلے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ حکومت قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف ہڑتال کرنے والے ملازمین کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔

پی آئی اے ملازمین کا احتجاج 20 جنوری کو قومی اسمبلی میں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بل آنے پر شروع ہوا تھا۔

ادارے کے ترجمان دانیال گیلانی نے کہا تھا کہ’11 دنوں میں پی آئی اے کو 2 ارب سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔‘

اسی بارے میں