مقامی ٹی وی پر فائرنگ کے خلاف صحافیوں کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption صحافیوں کے احتجاج کے دوران پنجاب اسمبلی اجلاس کی کوریج کرنے والے رپورٹرز نے ایوان کی کارروائی کی کوریج کا بائیکاٹ کیا

لاہور کے مقامی نیوزچینل سٹی 42 پر حملے کے خلاف صحافی تنظیموں نے مال پر پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

احتجاجی مظاہرے کی قیادت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس پی ایف یو جے کے صدر رانا عظیم اور لاہور پریس کلب کے صدر شہباز میاں نے کی۔

سول سوسائٹی کے نمائندوں اور وکلاء نے بھی مظاہرے میں شرکت کی۔

مظاہرین مال روڈ پر کچھ دیر نعرے بازی کرتے رہے جس کے بعد انھوں نے پنجاب اسمبلی تک مارچ کیا تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں اسمبلی احاطے میں جانے کی اجازت نہ دی جس پر مظاہرین نے چیئرنگ کراس پر مال روڈ پر ایک طرف کی ٹریفک بلاک کر دی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

صحافی عبدالناصر خان کے مطابق اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رانا عظیم نے مطالبہ کیا کہ حکومت میڈیا ہاوسز کی سکیورٹی میں اضافہ کرے اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔انھوں نے کہا کہ اگر 24 گھنٹوں میں ملزم گرفتار نہ کئے گئے تو صحافی برادری شدید احتجاج کرے گی۔

شہباز میاں نے منگل کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا اور کہاکہ سٹی 42 پر حملے کے خلاف لاہور صحافی بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے اور پریس کلب پر سیاہ پرچم لہرایا جائے گا۔

صحافیوں کے احتجاج کے دوران پنجاب اسمبلی اجلاس کی کوریج کرنے والے رپورٹرز نے ایوان کی کارروائی کی کوریج کا بائیکاٹ کیا اور پریس گیلری سے واک آوٹ کردیا۔

خیال رہے کہ نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے اتوار کی رات جیل روڑ پر تھانہ شادمان سے متصل سٹی42 کے آفس کے باہر فائرنگ کی اور گلبرگ کی جانب فرار ہوگئے تھے۔ فائرنگ سے کوئی زخمی نہیں ہوا تھا۔

لاہور میں گذشتہ کچھ عرصہ میں کسی میڈیا ہاوس پر یہ دوسرا حملہ ہے اس سے قبل یکم دسمبر 2015کو نامعلوم افراد نے گلبرگ میں واقع دن نیوز کے آفس پر دستی بم سے حملہ کیا تھا جس سے دو پولیس اہل کاروں سمیت چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں