پنجاب کی جیلوں میں قید مجرموں کا ڈیٹا بیس بنانے کا فیصلہ

Image caption اس نظام کے تحت صوبہ کی جیلوں میں موجود تمام قیدیوں کے فنگر پرنٹس، تصاویراور شناختی کارڈ سمیت ڈی این اے کا ریکارڈ ر کھا جائے گا

حکومتِ پنجاب نے خطرناک جرائم میں ملوث مجرمان کی جیل سے رہائی کے بعد ان پر نظر رکھنے اور ان کا مکمل ڈیٹا محفوظ بنانے کے نظام کا دائرہ صوبے بھر میں پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں صوبے کی 20 جیلوں میں کریمنل ریکارڈ آفس کے قیام کے ساتھ ساتھ بایومیٹرک نظام بھی نصب کر دیا گیا ہے۔

لاہور سے صحافی عاصم نصیر کے مطابق جیلوں میں بند قیدیوں کے مکمل کوائف کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کے فیصلے کے تحت ابتدائی طور پر پرزن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم جولائی 2014 میں متعارف کروایا گیا تھا۔

اس نظام کے تحت پنجاب کے درالحکومت لاہور کی دو جیلوں، سنٹرل جیل کوٹ لکھپت اور ڈسٹرکٹ کیمپ جیل میں کریمنل ریکارڈ آفس قائم کیےگئے تھے جس کے بعد سے یہاں تمام قیدیوں کے مجرمانہ اور عدالتی ریکارڈ سمیت ان کا بایوڈیٹا بھی رکھا گیا ہے۔

سپریٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ کیمپ جیل شہرام توقیر خان کے مطابق اس ریکارڈ کی مدد سے قیدیوں کی رہائی کے بعد ان پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور اس سے ان کے دوبارہ کسی جرم میں ملوث ہونے پر انھیں گرفتار کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیمپ جیل کے چار ہزار کے قریب قیدیوں کے لیے ابتدائی طور پر 6 بایومیٹرک مشینیں نصب کر کے ان کے فنگر پرنٹس لیے گئے جبکہ قیدیوں کی گذشتہ زندگی کی بھی معلومات کو اکٹھا کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ جیل کے عملے کے بھی فنگر پرنٹ لے کر ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے ہیں۔

اس پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد محکمۂ داخلہ پنجاب نے صوبے کی تمام 37 جیلوں میں یہ نظام متعارف کرنے کا فیصلہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوبے کی 20 جیلوں میں کریمنل ریکارڈ آفس کے قیام کے ساتھ ساتھ بایومیٹرک نظام بھی نصب کر دیا گیا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے 12 جیلوں میں یہ مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے جبکہ آٹھ میں جزوی طور پر کام کر رہا ہے اور وہاں بایومیٹرک مشینوں کی تنصیب کے بعد ڈیٹا اینٹری کی جا رہی ہے۔

جن جیلوں میں یہ نظام مکمل طور پر کام کر رہا ہے ان میں سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے علاوہ گوجرانوالہ، راولپنڈی، میانوالی اور ساہیوال کی سینٹرل جیلیں جبکہ شیخوپورہ، قصور،گجرات، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سیالکوٹ، جھنگ اور لاہور کی ضلعی جیلیں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ملتان، بہاول پور، ڈیرہ غازی خان اور فیصل آباد کی سینٹرل جیلوں اور وہاڑی،ملتان، فیصل آباد اور سرگودھا کی ضلعی جیلوں میں یہ نظام کسی حد تک فعال ہے۔

محکمہ داخلہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ 80 فیصد جرائم میں ایسے افراد ملوث پائے جاتے ہیں جو جیلوں سے رہا ہوئے ہوتے ہیں تاہم اب ان کا ریکارڈ مرتب ہونے کی وجہ سے پولیس کو انھیں قابو کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

اس نظام کے تحت صوبہ کی جیلوں میں موجود تمام قیدیوں کے فنگر پرنٹس، تصاویراور شناختی کارڈ سمیت ڈی این اے کا ریکارڈ ر کھا جائے گا جبکہ قیدیوں سے ملنے کے لیے آنے والے ملاقاتیوں کا بھی بایومیٹرک ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔

اسی بارے میں