مینگورہ میں خواجہ سراؤں کی جبری بے دخلی

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے شہر مینگورہ میں مقیم خواجہ سراؤں کو ان کے گھروں سے جبری طور پر نکالنے پر خواجہ سرا سراپا احتجاج ہیں۔

نکالے جانے والے ان خواجہ سراؤں کی تعداد 15 ہے جن پر غیر اخلاقی حرکات اور فحاشی پھیلانے کا الزام عائد کیاگیا ہے۔

مینگورہ شہر کے وسط میں قائم کرائے کی عمارت میں رہائش پذیر ان خواجہ سراؤں کا کہنا ہے کہ ان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان الزمات کی بنیاد پر ان کی جبری بےدخلی کے بعد اب ان کے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

خواجہ سراؤں کے گرو نوید عرف نویدے نے بتایا کہ سوات میں خواجہ سراؤں کی تعداد 150 کے لگ بھگ ہے جو ٹولیوں کی شکل میں شہر کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں۔

بےدخل کیے جانے والے ایک خواجہ سرا میکسی نے بتایا کہ ایک طرف خاندان والے ہمیں قبول نہیں کر رہے تو دوسری جانب معاشرہ ہمیں رہنے نہیں دے رہا تو ہم جائیں تو کہاں جائیں؟

انھوں نے بتایا کہ اگر میں خواجہ سرا ہوں تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں، مجھ سے خاندانی شناخت چھیننے اور ناچنے پر مجبور کرنے کا ذمہ دار معاشرہ ہے۔

خواجہ سراؤں کی بےدخلی کے حوالے سے عمارت کے مالک سے رابطے کی بہت کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ملی۔

سوات میں خواتین جرگے کی سربراہ مس تبسم عدنان نے بی بی سی کو بتایا کہ خواتین جرگہ زبردستی نکالے جانے والے خواجہ سراؤں کے ساتھ ہے اور وہ انتظامیہ اور علاقے کے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی سے اس حوالے سے بات کریں گے۔

خیال رہے کہ سوات میں طالبان کی عمل داری کے دوران سوات سے خواجہ سرا محفوظ علاقوں میں چلےگئے تھے تاہم امن کی بحالی کے بعد واپس سوات آ گئے ہیں۔

اسی بارے میں