تحریک انصاف اپنے’ہدف نمبر ایک‘ سے دور؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کا پہلے دن سے ملک میں بڑا نعرہ بدعنوانی کا خاتمہ رہا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے انتخابی دھاندلی کا معاملہ تو 2013 کے عام انتخابات کے بعد اٹھایا گیا تھا لیکن لگتا ایسا ہے کہ جیسے خیبر پختونخوا میں اس مسئلے کے حل میں بدانتظامی اسے اپنے ہی زیر انتظام صوبے میں اپنا ’ہدف نمبر ایک‘ حاصل کرنے سے دور کر رہی ہے۔

اسے خیبر پختونخوا کی خوش قسمتی کہیں یا بدقسمتی، فیصلہ کرنا مشکل ہے لیکن یہ ملک میں واحد صوبہ ہے جہاں تین بڑے ادارے یا محکمے انسداد بدعنوانی کے لیے کوشاں ہیں۔

ان میں پہلے نمبر پر وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام قومی احتساب بیورو ہے۔ اس کے دائرۂ اختیار پر 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیڑھ سال قبل خود مختار احتساب کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا، جب کہ صوبے میں انسداد بدعنوانی کا محمکہ پہلے سے موجود تھا۔ اسے احتساب کمیشن میں شامل کیا گیا لیکن بعد میں پھر الگ کر دیا گیا۔

پولیس کی طرح دوسرے کئی محکمے اپنے اندر بھی خود احتسابی کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پولیس اہکاروں کی رشوت یا ڈسپلن کی خلاف ورزی کے الزام میں معطلی کی خبریں سامنے آتی رہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

رقبے کے اعتبار سے سب سے چھوٹے صوبے میں آخر کتنی بدعنوانی ہو رہی ہے کہ اس کے تدارک کے لیے اتنے ادارے چاہییں؟ ان سب کے لیے کتنا بجٹ رکھا گیا ہے؟

صوبے میں بدعنوانی ہے، لیکن پہلے اس کی نوعیت، مقدار اور وسعت کا تو اندازہ ہو پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہوں۔

لگتا یہ ہے کہ احتساب کمیشن خود تنازعے کا شکار ہوگیا ہے۔ سابق کور کمانڈر پشاور جو دو سال تک قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں سے لڑتے لڑتے احتساب کمیشن میں لائے گئے۔ انھیں بقول اپنے اختیارات میں کمی کا کوئی شوق نہیں تھا لہٰذا باقی اراکین کمیشن سے اختلاف کی وجہ سے مستعفی ہو گئے۔ دیگر وجوہات میں انسداد بدعنوانی کے محکمے کو دوبارہ احتساب کمیشن سے الگ کرنا، نیب کے ساتھ دائرۂ اختیار پر اختلاف اور اپنے اختیارات میں کمی شامل رہے۔

اس کڑے احتسابی عمل سے صوبہ 2014 میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق بدعنوانی میں نیچے آ گیا ہے، لیکن اس کا ایک نقصان گذشتہ دو برسوں سے ترقیاتی عمل کامتاثر ہونا بتایا جاتا ہے۔ دو سال تک 70 فیصد تک کرپشن کے خوف سے ترقیاتی فنڈز استعمال میں ہی نہیں لائے گئے۔

افسران کی پکڑ دھکڑ سے نوکر شاہی کوئی ذمہ داری ادا کرنے سے کترانے لگی ہے، اور اب احتساب کمیشن میں ترامیم ہی سے شاید افسران کا اعتماد دوبارہ بحال ہو۔

اسی بارے میں