پرویز مشرف ہسپتال سے گھر منتقل

تصویر کے کاپی رائٹ Pvervaiz Musharraf Spokesperson
Image caption پرویز مشرف کی ترجمان کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو دِل کی تکلیف ہوئی ہے

پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف ہسپتال سے گھر منتقل ہوگئے ہیں۔ جمعرات کو انھیں خرابی صحت کی بنا پر ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا جہاں انھیں انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیا تھا۔

پرویز مشرف کی سیاسی جماعت کی ترجمان آسیہ اسحاق نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پرویز مشرف کے ساتھ ہی بیٹھیں تھیں کہ اچانک انھیں سانس لینے میں تکلیف محسوس ہوئی جس کے بعد انھیں فوری طور پر الشفا منتقل کردیا گیا جہاں پہلے انھیں ایمرجنسی وارڈ میں رکھا گیا اور بعد میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔

ترجمان کے مطابق چند گھنٹے ہسپتال میں رہنے کے بعد انھیں گھر منتقل کر دیا گیا۔

آسیہ اسحاق کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو دِل کی تکلیف ہوئی ہے نہ کہ بلند فشارِ خون جیسا کہ مقامی میڈیا میں بتایا جا رہا ہے۔

اس سے قبل ان کا مزید کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی حالت ابھی بہتر نہیں ہے اور ڈاکٹرز سے مشاورت کی جارہی ہے۔ مشاورت کے بعد ہی کچھ مزید بتایا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ عدالت کی جانب سے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے بیرونِ ملک جانے پر پابندی عائد ہے اور ان کے خلاف سنگین غداری کا ایک مقدمہ بھی خصوصی عدالت میں زیرِ سماعت ہے جس میں وہ طویل عرصے سے خرابی صحت کی بِنا پر پیش نہیں ہوئے۔

حال ہی میں پرویز مشرف کو نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں باعزت بری کردیا گیا ہے جبکہ لال مسجد آپریشن کے خلاف جو کیس چل رہا ہے اس کے مرکزی کردار مولانا عبدالعزیز نے بھی گذشتہ دنوں لال مسجد آپریشن میں ملوث تمام افراد کو معاف کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

اسی بارے میں