پی آئی اے کے 11 ملازمین برطرف، 165 کو اظہار وجوہ کے نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان تصفیے کے ایک دن بعد پی آئی اے کے 11 ملازمین کو لازمی سروس ایکٹ کی خلاف ورزی پر ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔

پی آئی اے کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی اور وضاحت کی کہ یہ 11 افراد دیہاڑی دار تھے۔

اس کے علاوہ پی آئی اے نے لازمی سروس ایکٹ کی خلاف ورزی پر مزید ملازمین کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کیے ہیں جن کی کُل تعداد اب 165 سے زیادہ ہو چکی ہے۔

اس سے قبل 8 فروری کو پی آئی اے نے 78 ملازمین کو لازمی سروس ایکٹ کی خلاف ورزی پر اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کیے تھے۔

دوسری جانب پی آئی اے کی احتجاج کرنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور دوسری دو یونین کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر پی آئی اے کی انتظامیہ کو خط لکھا ہے۔

اس خط میں استدعا کی گئی ہے کہ چونکہ معاملات وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں وزیراعظم کے نوٹس میں لائے جانے کے منتظر ہیں، اس لیے ملازمین کو جاری کیے جانے والے اظہارِ وجوہ کے نوٹس واپس لے لیے جائیں۔

اس خط پر کیپٹن سہیل بلوچ چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی، صفدر انجم جنرل سیکریٹری سینیئر سٹاف ایسوسی ایشن، نصراللہ آفریدی کیبن کریو ایسوسی ایشن، ندیم قیصر سینیئر وائس پریزیڈنٹ ایئر لیگ اور عبیداللہ سیکریٹری جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دستخط ہیں۔

پی آئی اے کی جوائنٹ ایکش کمیٹی نے گذشتہ روز پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف سے لاہور میں ملاقات کی جس میں وزیراعلیٰ نے انھیں اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ وہ اُن کے مطالبات وزیراعظم تک پہنچائیں گے۔

پی آئی اے کے مختلف ذرائع کے مطابق مزید ملازمین کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کرنے اور مزید ملازمین کو فارغ کیے جانے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔

پی آئی اے اور ہوابازی ڈویژن کے مختلف سینیئر اہلکاروں سے اس حوالے سے رابطہ کیا گیا مگر انھوں نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اسی بارے میں