باچا خان یونیورسٹی دوبارہ کھولنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی پر شدت پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملے میں کم سے کم 21 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں گذشتہ ماہ شدت پسندوں کے حملے کے بعد سے بند باچا خان یونیورسٹی کو پیر 15 فروری سے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

باچا خان یونیورسٹی کے ترجمان سعید خان نے جمعے کو بتایا کہ یونیورسٹی کی سکیورٹی کمیٹی نے مکمل جائزہ لینے کے بعد ادارے کو نصابی سرگرمیوں کے لیے کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ طلبا اور سٹاف کو یونیورسٹی کی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

چارسدہ کے ضلعی پولیس افسر سہیل خان کا کہنا ہے کہ باچا خان یونیورسٹی کو سکیورٹی کلیئرنس دے دی گئی ہے۔ ان کے مطابق یونیورسٹی کی حدود کے اندر آٹھ پولیس اہلکار موجود ہوں گے جبکہ یونیورسٹی کے باہر ایک پولیس موبائل بھی تعینات ہوگی۔

سہیل خان نے بتایا کہ یونیورسٹی کی دو خواتین اہلکاروں کو طالبات پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں یونیورسٹی کے ترجمان سعید خان نے اعلان کیا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے حملے پر پیش کی جانے والی انکوئری رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

انکوئری رپورٹ میں یونیورسٹی کے نائب چانسلر اور سکیورٹی انچارج کے ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد یونیورسٹی کے ترجمان نے مناسب سکیورٹی فراہم کیے جانے تک یونیورسٹی کو بند رکھنے کا کہا تھا۔

چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی پر شدت پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملے میں کم سے کم 21 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں