’کراچی سے کمانڈروں سمیت97 دہشت گرد گرفتار‘

Image caption کراچی میں آپریشن کے دوران القاعدہ برصغیر کو مالی معاونت فراہم کرنے والے 12 افراد کو حراست میں لیا گیا

پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ کراچی سے کالعدم تنطیم لشکرِ جھنگوی، القاعدہ اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ تین کمانڈروں سمیت 97 دہشت گردوں کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ امریکی صحافی ڈینئیل پرل کے قتل کے مجرم کو جیل سے رہا کروانے کے منصوبے کو ناکام بنایا گیا۔

کراچی میں فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کراچی میں دہشت گردی کے واقعات میں

کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی اور القاعدہ برصغیر کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا بھی ان سے اشتراک تھا۔

انھوں نے بتایا کہ کراچی میں انٹیلیجنس ایجنسیوں کی اطلاعات پر سات ہزار سے زائد آپریشن کیے گئے۔ جن میں 12 ہزار سے زائد شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا۔

نامہ نگار نخبت ملک کے مطابق فوج کے ترجمان نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ’کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی اور القاعدہ برصغیر کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے۔‘

Image caption کراچی میں آپریشن کے دوران القاعدہ برصغیر کو مالی معاونت کرنے والے 12 افراد کو حراست میں لیا گیا: فوجی ترجمان

انھوں نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والوں اداروں نے کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے امیر اور نائب امیر کو گرفتار کیا ہے جبکہ اس تنظیم سے وابستہ چھ خودکش بمبار اور دس ریمورٹ کنٹرول بم بنانے میں مہارت رکھنے والے دہشت گردوں کو بھی پکڑ لیا ہے۔

کراچی میں آپریشن کے دوران القاعدہ برصغیر کو مالی معاونت فراہم کرنے والے 12 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ القاعدہ برصغیر کے دھماکہ خیز مواد بنانے والے 15 شدت پسندوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ کالعدم تنطیم لشکرِ جھنگوی، القاعدہ اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ 97 مبینہ دہشت گردوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔حراست میں لیے گئے دہشت گردوں میں 26 کی گرفتاری کے لیے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ کراچی میں جتنے بڑے دہشت گردی کے واقعات ہوئِے ہیں ان میں یہی لوگ ملوث تھے جو مساجد میں بیٹھ کر منصوبہ بندی کرتے تھے تاکہ ان پر شک نہ کیا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ ان شدت پسندوں نے کراچی میں رہتے ہوئے ملک کے دیگر علاقوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کی جن میں ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر لاہور، مہران بیس پر حملہ، نیوی کی بسوں پر حملے اور کراچی کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بتایا کہ یہ دہشت گرد نیٹ ورک کراچی اور حیدر آباد کی سینٹرل جیل پر بھی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ حیدر آباد کی جیل پر حملے کے لیے شدت پسندوں نے لطیف آباد 5 نمبر میں ایک گھر کرائے پر لیا تھا اور وہاں پر دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ جمع کر کے جیل پر حملے کی تیاری کر رہے تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کے مطابق ’دہشت گرد حیدر آباد جیل میں قید ڈینئیل پرل کے مقدمے میں سزا یافتہ مجرم عمر سعید شیخ اور کور کمانڈر کراچی پر حملے کرنے والے مجرم شہزاد احمد کو رہا کروانا چاہتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ منصوبہ سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ نیٹ ورک حیدر آباد جیل میں قید 35 سے 40 قیدیوں کو مار کر تقریباً 100 قیدیوں کو رہا کروانا چاہتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ نیٹ ورک ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر لاہور، مہران بیس پر حملہ، نیوی کی بسوں پر حملے اور کراچی کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں میں ملوث رہا ہے

ان شدت پسندوں کے پاس سے جیل کا نقشہ، پولیس کا یونیفارم بھی برآمد ہوا ہے۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بتایا کہ ستمبر 2013 میں کراچی میں آپریشن شروع ہونے سے قبل شہر میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان کے واقعات بہت زیادہ ہوا کرتے تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ کراچی میں جاری آپریشن کے دوران نو ہزار سے زائد بڑے اور چھوٹے ہتھیار قبضے میں لیے گئے جبکہ چار لاکھ 25 ہزار سے زیادہ گولیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ 70 فیصد کم ہوئی ہے جبکہ بھتہ خوری کے واقعات میں 85 فیصد کمی ہوئی ہے اور شہر میں اغوا برائے تاوان میں 90 فیصد کمی آئی ہے۔

Image caption ’ دہشت گرد نیٹ ورک کراچی اور حیدر آباد کی سینٹرل جیل پر بھی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے‘

انھوں نے کہا کہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کے خلاف رینجرز کے آپریشن سے شہر کے حالات بہتر ہوئے ہیں لیکن شہر میں مکمل امن کی بحالی تک آپریشن جاری رہے گا۔

اسی بارے میں