نوشکی اور چاغی کے اضلاع میں خشک سالی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر اسماعیل سمالانی کا کہنا تھا کہ مناسب خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مال مویشی لاغر اور کمزور ہورہے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے متعدد علاقوں میں موسم خزاں کے دوران بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خشک سالی کے اثرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ا س وقت جو اضلاع خشک سالی کی زیادہ لپیٹ میں آگئے ہیں ان میں نوشکی اور چاغی کے اضلاع شامل ہیں۔

نوشکی میں طویل عرصے سے بارشیں نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے زراعت اور مال مویشی خشک سالی سے متاثر ہو رہے ہیں۔

بلوچستان کے 29 اضلاع خشک سالی کا شکار

گذشتہ دنوں ایک غیر سرکاری تنظیم آزاد فاؤنڈیشن کی جانب سے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی میڈیا کی ایک ٹیم کو نوشکی کے علاقے ڈاک لے جایا گیا۔

ڈاک کے سابق یونین کونسل کے ناظم غلام حیدر نے خشک سالی کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’گذشتہ آٹھ دس سال کے دوران خشک سالی نے جو تباہی مچاہی ہے اس کے باعث وہاں کوئی دیکھنے والی چیز نہیں۔ وہاں سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں۔‘

نوشکی میں محکمہ حیوانات کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اسماعیل سمالانی نے صحافیوں کو بتایا ضلع نوشکی میں تین یونین کونسل خشک سالی سے زیادہ متاثر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان یونین کونسلوں میں ڈاک، انام بوستان اور کیشنگی شامل ہیں۔

ڈاکٹر اسماعیل سمالانی کا کہنا تھا کہ مناسب خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مال مویشی لاغر اور کمزور ہورہے ہیں اور مالدار ان کو انتہائی کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

’وہ اونٹ جو ایک سے ڈیڑھ لاکھ میں بکتا تھا اب مالدار اس کو 35 ہزار روپے میں فروخت کرنے پر بھی مجبور ہیں اسی طرح مالدار بھیڑ بکریوں کو دو سے ڈھائی ہزار روپے میں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔‘

بلوچستان میں زراعت اور مال مویشی لوگوں کے معاش کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

نوشکی اور چاغی میں خشک سالی سے دونوں ذرائع متائثر ہونے کی وجہ سے لوگوں کی آمدنی بھی متاثر ہوگئی ہے۔ اس سے لوگ بالخصوص بچے کم خوراکی کا بھی شکار ہوگئے ہیں۔

آزاد فاؤنڈیشن کے مطابق نوشکی اور چاغی کے علاوہ واشک، خاران، قلعہ سیف اللہ، خضدار، سبی اور ژوب سمیت بعض دیگر علاقوں میں بھی خشک سالی کے اثرات زیادہ ہیں۔

بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے حکام نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ نوشکی میں خشک سالی کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ٹیم بھیج دی گئی ہے۔

دوسری جانب مقامی میڈیا میں ضلع چاغی میں بھوک اور غربت کی وجہ سے بچوں کی ہلاکت کی خبریں بھی شائع ہوئی ہیں۔ تاہم ڈپٹی کمشنر ضلع چاغی خدائے نذر بڑیچ نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے۔

اپنے وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ ضلع بھر میں کوئی ایسا واقع پیش نہیں آیا اور نہ ہی کسی ایک بچے کا بھی بھوک اور غربت کی وجہ سے ہلاکت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضلع میں خشک سالی کے اثرات موجود ہیں تاہم صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔

اسی بارے میں