’چند شدت پسند تنظیمیں داعش کا نام استعمال کررہی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے تاہم چند شدت پسند تنظیمیں اس کا نام استعمال کررہی ہیں۔

انھوں نے یہ بات ہفتہ کے روز راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ کچھ دہشتگرد گروپ داعش کے نام پر پرتشدد کارروائیاں کررہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے یہ بات ایسے وقت کہی ہے جب چند روز قبل ہی انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان نے داخلہ امور کے بارے میں ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ملک میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کا نیٹ ورک موجود ہے جس کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لاتے ہوئے اس کا بڑی حد تک خاتمہ کردیا گیا ہے۔

’پاکستان سے 100 افراد عراق، شام جا چکے ہیں‘دولت اسلامیہ کی ریڈیو نشریات پاکستانی علاقوں میں

آفتاب سلطان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں8 سے 10 سال جاگتے رہنا ہوگا کیونکہ جنرل ضیا الحق کےدور سے لے کر بعد کی دو نسلوں تک کے ذہن بدلے گئے اوراب ان ذہنوں کو بدلنے میں وقت لگے گا۔‘

انٹیلجنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان کا کہنا تھا کہ بعض مذہبی جماعتیں دولت اسلامیہ کی سوچ کی حمایت کرتی ہیں۔

اسی بارے میں